عنوان: نجومی کو ہاتھ دکھانے کا حکم(101267-No)

سوال: نجومی کو ہاتھ دکھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اپنی آئندہ اچھی یا بری قسمت کے بارے معلوم کرنے کے لیے کسی نجومی اور کاہن کے پاس جاکر اس کو ہاتھ دکھانا اور آئندہ کی باتیں پوچھنا شرعا حرام اور ناجائز ہے۔ اور اس کی بتائی ہوئی بات کے درست ہونے کا عقیدہ رکھنا، آدمی کو کفر کے قریب کر دیتا ہے۔
نیز نجومی اور کاہن کے پاس جانے والوں پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے، چنانچہ " جامع الترمذی " میں ہے:
" من أتی ․․․ کاہنًا فقد کفر بما أنزل علی محمّد".
(جامع الترمذی : رقم : ۱۳۵، باب ما جاء في کراہیة إتیان الحائض )
ترجمہ :
جو آدمی کسی کاہن (نجومی) کے پاس آیا ( اور اس نے اس کی بتائی ہوئی بات کے صحیح ہونے کا عقیدہ رکھا) تو اس نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت کا انکار ( کفر ) کیا۔

اسی طرح صحیح روایت میں ہے :
" من أتی عرافًا فسألہ عن شيءٍ لم یقبل لہ صلاة أربعین لیلةرواہ مسلم".(مشکوۃ المصابیح)
ترجمہ :
جو شخص کسی کاہن( نجومی) کے پاس جا کر کسی چیز کے متعلق دریافت کرے تو
اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 757
najoomi ko hath dikhany/dekhany ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.