سوال:
صاحب نصاب کے لئے پہلے ساڑے سات تولہ سونا یا 52.5 تولہ چاندی کا معیار تھا . . . لیکن اب یہ سنا ہے کہ اگر آپ کے پاس 52.5 تولہ سلور کی قیمت کے برابر مال ہو، تو آپ صاحب نصاب بن گئے اور آپ کو بھی زکوۃ نکالنا ہوگی، اِس کا مطلب یہ بھی ہے ہم کسی غریب کو زکوۃ نہیں دے سکتے، اگر اس کے پاس 47000 - 48000 کا مال ہو کیونکہ وہ بھی صاحب نصاب ہے، اب صرف سلور اسٹینڈرڈ کو معیار بنانے کی وجہ کیا ہے ؟ رہنمائی فرما دیں۔جزاک اللہ .
جواب: واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے زکوٰۃ کے نصاب میں اس بات کا خیال کیا ہے کہ ایسی چیز کو نصاب کا معیار بنایا جائے جو آسانی سے پورا ہو جائے اور فقراء و مساکین کے لیے زیادہ نفع مند ثابت ہو، چنانچہ اگر نصاب میں سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو، یا چاندی ساڑھے باون تولہ سے کم ہو، یا دونوں ہوں لیکن اپنے اپنے نصاب کو نہ پہنچ رہے ہوں ، لیکن ان کے ساتھ شروع اور آخر سال میں اتنی نقدی ہو کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جائے، تو ایسے شخص پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔ یا صرف اتنی نقدی ہوکہ جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، اس پر بھی سال گزرنے پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
البتہ ایسا شخص جس کے پاس صرف اتنی نقدی ہو کہ جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہو ، تو وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مصنف ابن ابی شیبہ: (فی الرجل تکون عندہ مئة درھم و عشرۃ دنانیر، رقم الحدیث: 9979، 393/6، ط: مؤسسة علوم القرآن)
" عن عبید اللہ بن عبید، قال: قلت لمکحول : یا أبا عبداللہ ! إ ن لي سیفا فیہ خمسون ومئۃ درہم ، فہل علي فیہ زکاۃ؟ قال: أضف إلیہ ماکان لک من ذہب وفضۃ، فإذا بلغ مئتي درہم ذہب وفضۃ ، فعلیک فیہ الزکاۃ".
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (کتاب الزکوٰۃ، ص: 717، ط: دار الکتب العلمیة)
وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة.
تکملۃ فتح الملہم: (کتاب المساقاۃ و المزارعۃ، حکم الأوراق المالیۃ)
" فمن ملک النصاب من الورق المالی ومکث عندہ حولاً کاملاً وجبت علیہ زکاتہ باعتبار زکاۃ الفضۃ ".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی