عنوان: کسی شخص سے کاروبار کے لیے پیسے لیکر آگے مضاربت پر دینا(13331-No)

سوال: میں نے ایک ساتھی سے کاروبار کے لئے کچھ رقم لی ہے، رقم لیتے وقت ہمارے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ میں نے کہا "میں کاروبار اپنی مرضی سے کروں گا، میں جس طرح بھی چاہوں کاروبار کرسکتا ہوں" اس نے مجھے کہا " تم اپنی مرضی کے مطابق کام کرو، ہمارے درمیان حصہ 1/3 طے ہوا، میرے کاروبار میں چونکہ منافع کم تھا اور میرے دوست کے کاروبار میں منافع زیادہ تھا تو میں نے وہ رقم اپنے دوست کو بطور مضاربت دے دی اور اس کے ساتھ نصف حصہ مقرر کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھے شرعا اس طرح کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ یعنی اپنے دوست کو بطور مضاربت رقم دینا جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کا کاروبار کے پیسے آگے کسی کو مضاربت کے طور پر دینا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرعی خرابی نہ پائی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (87/6، ط: دار الفکر بیروت)
(وأما) الذي يرجع إلى عمل المضارب مما له أن يعمله بالعقد، وما ليس له أن يعمل به فجملة الكلام فيه أن المضاربة نوعان: مطلقة ومقيدة، فالمطلقة أن يدفع المال مضاربة من غير تعيين العمل والمكان والزمان وصفة العمل ومن يعامله والمقيدة أن يعين شيئا من ذلك.......وله أن يشتري ما بدا له من سائر أنواع التجارات في سائر الأمكنة مع سائر الناس لإطلاق العقد وله أن يدفع المال بضاعة لأن الإبضاع من عادة التجار، ولأن المقصود من هذا العقد هو الربح

الھدایة: (202/3، ط: دار احیاء التراث العربی)
"ولا يضارب إلا أن يأذن له رب المال أو يقول له اعمل برأيك"

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 241 Nov 15, 2023
kisi shakhs se karobar k liye paise lekar aage muzarbat per dena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.