عنوان: کسی کمپنی میں سرمایہ کاری (Investment) کرکے ہر ماہ نفع کا مخصوص تناسب لینے کا حکم (13447-No)

سوال: ایک کمپنی ہے جس میں رقم انویسٹ کرنے پر سرمایہ کاروں کو ان کی کل رقم کے مطابق ہر ماہ آٹھ سے دس فیصد منافع دیا جاتا ہے، جیسے: ایک لاکھ روپے کے سرمایہ پر ہر ماہ آٹھ سے دس ہزار روپے ملتے ہیں، ایسی کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ کسی کمپنی میں سرمایہ کاری (Investment) کے جائز ہونے کیلئے بہت سی چیزیں دیکھی جاتی ہیں، مثلا: کمپنی کا بنیادی کاروبار کس چیز کا ہے؟
کمپنی لوگوں کے پیسے کہاں اور کیسے انویسٹ کرتی ہے؟
لوگوں سے سرمایہ کاری لینے سے متعلق قانونی تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے یا نہیں؟
کاروبار میں غیر شرعی مفاسد سے اجتناب کیا جاتا ہے یا نہیں؟
جب تک ان باتوں کا علم نہ ہو، اس وقت اس کمپنی میں سرمایہ کاری کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
جہاں تک نفع کی تقسیم کا تعلق ہے، اس سلسلے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ باہمی رضامندی سے نفع کا کوئی بھی فیصدی تناسب طے کیا جاسکتا ہے۔ پہلے سے طے شدہ اور متعین (Fix) نفع مقرر کرنا شرعاً درست نہیں ہے، نیز اگر کسی شریک کا صرف سرمایہ شامل ہو عملی طور پر وہ کاروبار کیلئے کام نہ کر رہا ہو تو ایسے شریک (Non Working Partner) کیلئے اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر نہیں کیا جاسکتا، جبکہ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرنا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مصنف عبد الرزاق: (رقم الحديث: 15087)
عبد الرَّزَّاق قال: قال القيس بن الرّبيع، عن أبي الحُصَيْن، عن الشَّعْبِيِّ، عن عليّ في المضاربة: «الْوَضِيعَةُ عَلَى الْمَالِ، وَالرِّبْحُ عَلَى مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ» وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمُضَارَبَةِ، أَوِ الشِّرْكَيْنِ

رد المحتار: (312/4، ط: دار الفکر)
وحاصل ذلك كله أنه إذا تفاضلا في الربح، فإن شرطا العمل عليهما سوية جاز: ولو تبرع أحدهما بالعمل وكذا لو شرطا العمل على أحدهما وكان الربح للعامل بقدر رأس ماله أو أكثر ولو كان الأكثر لغير العامل أو لأقلهما عملا لا يصح وله ربح ماله فقط

الفتاوی الهندية: (كتاب الشركة، فصل فى بيان شرائط انواع الشركة، 56/6، ط: دار الكتب العلمية)
(ومنها): أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 239 Dec 19, 2023
kisi company me sarmayakari karke har mah nafa ka makhsos tanasub lene ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.