resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غلطی سے شرکیہ جملہ زبان سے نکل جانے سے ایمان و نکاح کا حکم(1397-No)

سوال: میاں بیوی کی آپس میں لڑائی ہو گئی، میاں بیڈ سے نیچے زمین پر لیٹ گیا، بیوی نے کہا آپ کو خدا کا واسطہ اوپر آجائیں، وہ اوپر چلا گیا، پھر کوئی بات ہوئی، وہ دوبارہ بیڈ سے نیچےآگیا تو اس کی بیوی نے کہا کہ میں نے آپ کو خدا کا واسطہ دیا تھا تو میاں نے کہا کہ "میں تو تجھے خدا سمجھتا تھا"، اس پر اس کی بیوی نے کہا کہ آپ نے کفریہ کلمہ کہا ہے تو اس کو بھی خیال ہوا کہ واقعی میں نے جملہ صحیح نہیں کہا، اس نے توبہ کی اور کلمہ پڑھ لیا، لیکن اس کی بیوی ابھی تک مطمئن نہیں ہوئی ہے اور اس نے کہا کہ کسی مفتی صاحب سے پوچھو کہ اس مسئلے میں نکاح کی تجدید ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر ضروری ہے تو اس کا طریقہ بتا دیں کہ کن الفاظ سے نکاح کی تجدید کریں؟

جواب: واضح رہے کہ اگر اس جیسے الفاظ سے واقعی مخاطب کو خدا کا درجہ دینا مقصود ہو یا اللہ تعالی کی شان میں استہزاء کی غرض سے بولے جائیں تو اس سے بولنے والا شخص کافر ہوجاتا ہے اور کہنے والے مرد پر تجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح بھی لازم ہوتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے یہ الفاظ استہزاءً کی نیت سے نہ بولے ہوں، بلکہ غلطی سے اس کے منہ سے نکل گئے ہوں تو ایسی صورت میں ان الفاظ کے بولنے سے شوہر سخت گناہ گار ہوا ہے، لیکن دائرہ اسلام سے نہیں نکلا ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ ان الفاظ پر توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لیے اس طرح کے الفاظ بولنے سے اجتناب کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (224/4، ط: الحلبي)
ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها ‌مخطئا أو مكرها ‌لا ‌يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف. اه.

شرح العقيدة الطحاوية: (ص: 316، ط: المكتب الإسلامي)
قوله: "ولا نكفر أحدا من أهل ‌القبلة بذنب، ما لم يستحله، ولا نقول لا يضر مع الإيمان ذنب لمن عمله".
ش: أراد بأهل ‌القبلة الذين تقدم ذكرهم في قوله: ونسمي أهل قبلتنا مسلمين مؤمنين، [ما داموا بما جاء به النبي صلى الله عليه وسلم معترفين، وله بكل ما قال وأخبر مصدقين.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Ghalti say shirkia jumla zuban say nikal jae to iman o nikah ka hukum, Ruling on faith and marriage if a polytheistic statement is made by mistake

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs