عنوان: کاروبار کا "اسلامی گروسری اسٹور" (Islamic Grocery store) نام رکھنا اور جائز کاروبار کے اصول (14539-No)

سوال: میں اسلامی اصولوں کی بنیاد پر گروسری اسٹور چلانا چاہتا ہوں اور میں اسلامی صارفین کو راغب کرنے کے لیے اپنے گروسری اسٹور کو اسلامی گروسری اسٹور کے طور پر ٹیگ کروں گا۔ مجھے اپنے گروسری اسٹورز میں کن اصولوں کا اطلاق کرنا چاہیے؟

جواب: 1) کاروبار کو شرعی اصولوں کے مطابق چلانے کا اہتمام کرنے کی صورت میں کاروبار کے نام کے ساتھ لفظ "اسلامی" لکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، نیز اپنے کاروبار کو "اسلامی" لکھنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ اپنے پورے کاروبار کو شرعی اصولوں کے مطابق چلانے کو یقینی بنانے کے سلسلے میں مستند مفتی حضرات سے اپنے کاروبار کا شرعی جائزہ (Shariah Analysis/Audit) بھی کراتے رہیں، تاکہ اگر کہیں غیر شرعی امر پایا جائے تو اسے شرعی اصولوں کے مطابق ڈھالا جاسکے، اس طرح آپ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآں ہوسکتے ہیں۔
2) جائز کاروبار کے لئے ضروری ہے کہ بیچی جانے والی چیز حلال اور فروخت کندہ کی ملکیت (Ownership) اور قبضہ (Possession) میں ہو، چیز کا معیار و مقدار اور اس کی قیمت باہمی رضامندی سے طے کی جائے۔ اپنی چیز کی جھوٹی تعریف، مبالغہ، جھوٹی قسم، دھوکہ دہی، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی اور دیگر غیر شرعی مفاسد سے اجتناب کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المطففین، الایة: 1، 3)
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ o الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ o وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ o

الترغیب و الترھیب: (کتاب البیوع، رقم الحدیث: 797)
عن أبی امامة رضی اللّٰہ عنه أن رسول اللّٰہ صلی الله عليه وسلم: إن التاجر إذا کان فیه أربع خصال طاب کسبه، إذا اشتریٰ لم یذُمّ، وإذا باع لم یمدح، ولم یدلُس فی البیع، ولم یَحلِف فیما بین ذٰلك۔

صحیح مسلم: (باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا، رقم الحدیث: 248)
عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، مر على صبرة طعام فادخل يده فيها، فنالت اصابعه بللا، فقال: " ما هذا يا صاحب الطعام؟ "، قال: اصابته السماء يا رسول الله، قال: " افلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش، فليس منا"

رد المحتار: (كتاب البيوع، مطلب شرائط البيع أنواع أربعة، 505/3،ط: سعید)
وشرط المعقود عليه ستة كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وكون الملك البائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم

الفتاوى الهندية: (3/3، ط: دار الفکر)
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 125 Jan 09, 2024
karobar ka " islamic grocery store" naam rakhna or jaiz karobar ke usool

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.