عنوان: کنواری عورت کا عبادات کے متاثر ہونے کی وجہ سے الگ گھر میں اکیلے رہنا (14567-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا ایک کنواری عورت کا اکیلے اپنے گھر میں رہنا جائز ہے؟ اگر والدین کے ساتھ رہنے میں اس کی عبادات متاثر ہو رہی ہو تو جس شہر میں اس کے ماں باپ رہتے ہوں، اسی شہر میں اپنا الگ گھر لے کر رہ سکتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ فتنوں کے اس دور میں جبکہ ہر طرف سے فتنے زور و شور پر ہیں، ایک کنواری عورت کے لیے تنہا گھر میں رہنا شرعاً و اخلاقاً انتہائی نامناسب اور اپنے آپ کو فتنے میں ڈالنے والی بات ہے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، لہذا مذکورہ عورت اکیلے گھر میں رہنے کے بجائے اپنے والدین کے ساتھ رہے، اور وہیں فرض عبادات کے ساتھ اپنی استطاعت کے مطابق نفلی عبادات کا اہتمام کرنے کی کوشش کرے، بلکہ مذکورہ عورت کے پاس والدین کے ساتھ رہ کر ان کی خدمت جیسی عبادت کا بہترین موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر یقیناً اللہ کے ہاں بڑے اجر و ثواب کی مستحق ہو سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الكريم: ( الاسراء، الآية: 23)
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ.

القرآن الكريم: (البقرة، الآية: 195)
وَلَا تُلۡقُوا۟ بِأَیۡدِیكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ.

نجم الفتاویٰ: (516/5، ط: شعبہ نشر و اشاعت دارالعلوم یاسین القرآن )

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 78 Jan 15, 2024
kanwari aurat ka ibadat ka mutasir hone ki waja se alag ghar mein akele rehna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.