عنوان: ورثاء کی طرف سے کفن و دفن کے اخراجات دینے کی صورت میں کفن و دفن کے لیے وصیت کی گئی رقم سے میت کے لیے صدقہ جاریہ کرنا(14649-No)

سوال: میری پیاری والدہ کا انتقال پچھلے ماہ ہوا ہے، وہ کچھ رقم چھوڑ کر گئیں تھیں اور کہہ گئیں تھیں کہ ان کا کفن دفن اس رقم سے کیا جائے، مگر کفن دفن ہم نے اپنے پیسوں سے کر لیا تھا، اب اس رقم سے کیا کیا جائے کہ والدہ کو قیامت تک ثواب ملتا رہے۔اس کے علاوہ بہترین صدقہ جاریہ کا بھی بتا دیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں جب کفن و دفن کا انتظام آپ لوگوں نے اپنی طرف سے کردیا تھا تو والدہ کی تدفین و تکفین کے لیے چھوڑی ہوئی رقم والدہ کی میراث میں شامل ہوگی اور اس میں سب ورثاء کا حق ہوگا، لہذا تمام ورثاء کی دلی رضامندی سے اس رقم کو والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے صدقہ جاریہ کے کاموں میں خرچ کیا جاسکتا ہے، اور صدقہ جاریہ کے لئے ایسے کام کا انتخاب کرنا بہتر ہے جس کی ضرورت بھی زیادہ ہو اور جس کا فائدہ بھی عرصے تک لوگ اٹھاتے رہیں، جس کا فیصلہ اپنے حالات اور علاقے کے اعتبار سے ہر شخص خود کرسکتا ہے۔
البتہ اگر سب ورثاء کی رضامندی نہ ہو یا کچھ ورثاء نابالغ ہوں تو اسں صورت میں میراث (مذکورہ رقم) کی تقسیم سے پہلے اس کو صدقہ جاریہ میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے، تقسیم میراث کے بعد بالغ ورثاء اگر چاہیں تو اپنے حصہ کی رقم صدقہ جاریہ میں خرچ کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن أبي داؤد: (رقم الحديث: 1681، 109/3، ط: دار الرسالة العالمية)
عن سعد بن عبادة، أنه قال: يا رسول الله، إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟ قال: "الماء" قال: فحفر بئرا، وقال: هذه ل أم سعد.

مرقاة المفاتيح: (1342/4، ط: دار الفكر بيروت)
(وعن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد) أراد به نفسه ( «ماتت، فأي الصدقة أفضل» ؟) أي لروحها (قال: الماء) إنما كان الماء أفضل لأنه أعم نفعا في الأمور الدينية والدنيوية خصوصا في تلك البلاد الحارة، ولذلك من الله - تعالى - بقوله {وأنزلنا من السماء ماء طهورا} [الفرقان: ٤٨] كذا ذكره الطيبي، وفي الأزهار: الأفضلية من الأمور النسبية، وكان هناك أفضل لشدة الحر والحاجة وقلة الماء.

الدر المختار مع رد المحتار: (759/6، ط: دار الفکر)
(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها۔۔۔الخ)
(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.

شرح المجلة: (الفصل الثاني في کیفیة التصرف، رقم المادۃ: 1075)
"کل من الشرکاء في شرکة الملك أجنبي في حصة سائرهم، فلیس أحدهم وکیلاً عن الآخر، ولایجوز له من ثم أن یتصرف في حصة شریکه بدون إذنه".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 57 Feb 06, 2024
wursa ki taraf se kafan wa dafan ke ikhrajat dene ki sorat mein kafan wa dafan ke liye wasiyyat ki gai raqam se miyyat ke liye sadqa jaria karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.