عنوان: والدین کے ساتھ اختلاف ہو جانے اور ان سے جھگڑا ہونے کی صورت میں رہائش الگ کرنے کا حکم(14663-No)

سوال: مفتی صاحب! آپ سے عرض یہ ہے کہ اگر کسی کے والد یا والدین اپنی اولاد کے ساتھ نا انصافی والا برتاؤ کرتے ہوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس سے لڑ پڑتے ہوں تو ایسی حالت میں اولاد کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا اس طرح کی حالت میں بیٹا خود اور اپنی اہلیہ کو والدین سے الگ گھر میں رکھ سکتا ہے؟

جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر والدین کے ساتھ رہنے میں ان سے لڑنے جھگڑنے کی نوبت آنے کی وجہ سے ان کی حق تلفی ہوتی ہو تو ایسی صورت میں آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ ان سے رہائش علیحدہ کرلیں، لیکن رہائش الگ کرنے کے باجود ان سے ادب و احترام کے ساتھ پیش آنا اور بوقت ضرورت ان کی خدمت کرنا آپ پر لازم ہے، کیونکہ والدین کے ساتھ مکمل طور پر قطع تعلقی کرنا ناجائز اور حرام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (الاسراء، الآية: 23)
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا o

الدر المختار مع رد المحتار: (599/3، ط: دار الفكر)
(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله)
(قوله خال عن أهله إلخ): لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها. (قوله وبيت منفرد) أي ما يبات فيه؛ وهو محل منفرد معين قهستاني. والظاهر أن المراد بالمنفرد ما كان مختصا بها ليس فيه ما يشاركها به أحد من أهل الدار. (قوله ونقل المصنف عن الملتقط إلخ) ... إذ لا شك أن المعروف يختلف باختلاف الزمان والمكان، فعلى المفتي أن ينظر إلى حال أهل زمانه وبلده، إذ بدون ذلك لا تحصل المعاشرة بالمعروف، وقد قال تعالى - {ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن} [الطلاق: ٦].

کذا فی فتاوی عثمانی: (289/1، ط: مکتبه معارف القرآن)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 112 Feb 09, 2024
waldain ke sath ikhtilaf ho jana aur un se jhagda hone ki sorat mein rehaish alag karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.