سوال:
ایک عورت عمرہ کرنے کے لئے گئی، اسی دوران احرام باندھنے کے بعد اسکو حیض شروع ہوگیا، دو یا تین دن کے بعد اس کی واپسی کی فلائٹ ہے، جب کہ حیض بند ہونے کے لیے 6 یا 7 دن باقی ہیں، تو ایسی عورت کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا حیض کی حالت میں عمرہ کرکے واپس آجائے؟ ایسی صورت میں کوئی کفارہ تو واجب نہیں ہوگا؟
جواب: واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت کو چونکہ عذر شدید لاحق ہے، لہذا مذکورہ عورت Menses (حیض) کی حالت میں ہی عمرہ کرکے حلال ہوجائے، پهر ایک بکرا یا دنبہ بطورِ دم حدود حرم میں دیدے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (551/2، ط: دار الفکر)
ولو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله ولو شوطا جنبا أو حائضا أو نفساء أو محدثا فعليه شاة لا فرق فيه بين الكثير والقليل والجنب والمحدث لأنه لا مدخل في طواف العمرة للبدنة ولا للصدقة
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی