سوال:
مفتی صاحب ! کسی شخص کو قرضہ دیا ہوا تھا اور اگر قرض دینے کے بعد واپسی کا انتظار کیا لیکن مقروض تنگدستی کی وجہ سے ایک سال تک قرض کی رقم ادا نہیں کرسکا تو قرض دینے والے نے اس رقم کو معاف کردیا تو کیا قرض خواہ پر اس رقم کی زکوة ادا کرنا واجب ہوگی؟
جواب: واضح رہے کہ مقروض چونکہ فقر اور تنگدستی کی وجہ سے قرض ادا نہیں کرپارہا تھا، لہذا اس رقم کے معاف کرنے پر قرض خواہ پر اس رقم کی گزشتہ سال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (171/1)
"ومن تصدق بجمیع نصابہ ولا ینوی الزکاۃ سقط فرضھا وھذا استحسان کذا فی الزاھدی… ولو کان لہ دین علی فقیر فابرأہ عنہ سقط عنہ زکوتہ نوی بہ عن الزکوۃ أو لا لانہ کالھلاک ولوأبرأہ عن البعض سقط زکاۃ ذلک البعض لما قلنا وزکاۃ الباقی لا تسقط ولو نوی بہ الاداء عن الباقی کذا فی التبیین۔ ولو کان من علیہ الدین غنیا فوھبہ منہ بعد الحول ففی روایۃ الجامع یضمن قدر الزکاۃ وھو الاصح ھکذا فی محیط السرخسی".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی