عنوان: روزانہ قرآن کریم کی دو سو آیات دیکھ کر تلاوت کرنے کی فضیلت سے متعلق حدیث کی تحقیق (15899-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا یہ روایت ثابت ہے؟ رسول اكرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص روزانہ قرآن کریم کی دو سو آیات دیکھ کر تلاوت کرے گا، اس کی قبر کے اردگرد کی سات قبر والوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور اللہ تعالی اس کے والدین کے سر سے بھی عذاب ہلکا کردے گا اگرچہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔ (کنز العمال: 538/1، حدیث نمبر: 2408)

جواب: سوال میں ذکر کردہ روایت ’’شدید ضعیف‘‘ ہے، لہذا اس کی نسبت جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
ذیل میں اس روایت کا ترجمہ، اسنادی حیثیت اور حکم ذکر کیا جاتا ہے۔
ترجمہ: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص روزانہ قرآن کریم کی دو سو آیات دیکھ کر تلاوت کرے گا، اس کی قبر کے ارد گرد کی سات قبر والوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور اللہ تعالی اس کے والدین سے عذاب ہلکا کر دیں گے، اگرچہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔(الترغیب لابن شاہین،ص:67،حدیث نمبر:192)
تخریج الحدیث:
سوال میں ذکر کردہ روایت کو حافظ ابن شاہین (م385ھ) نے’’الترغیب فی فضائل الاعمال‘‘(67،رقم الحدیث:192، ط:دارالکتب العلمیۃ) میں ذکر کیا ہے۔
مذکورہ روایت کی اسنادی حیثیت:
اس روایت کی سند میں راوی ’’جعفر بن محمد المرزبان‘‘ مجہول الحال ہے اور راوی ’’خلف بن یحی‘‘ پر محدثین نے سخت جرح کی ہے۔
امام ابن ابی حاتم (م327ھ) ان کے بارے میں کہتے ہیں:’’خلف بن یحی متروک جھوٹا راوی ہے۔‘‘
علامہ ابن عراق کنانی (م963ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ روایت خلف بن یحی کی طریق سے ہے اور وہ ایک جھوٹا راوی ہے، اس کی روایت شاہد نہیں بن سکتی ہے۔
خلاصۂ کلام:
سوال میں ذکر کردہ روایت سند میں مجہول الحال، متروک اور کذاب راوۃ کی وجہ سے شدید ضعیف ہے، اگرچہ اس روایت کا شاہد موجود ہے، لیکن چونکہ وہ بھی سند کے اعتبار شدید ضعیف ہے، اس لیے اس شاہد کی وجہ سے اس روایت کو تقویت نہیں ملے گی، لہذا اس روایت کو آنحضرت ﷺ کی طرف نسبت کر کے بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الترغیب في فضائل الأعمال لابن شاهين: (67،رقم الحدیث:192، ط:دارالکتب العلمیة)
حدثنا عبد الله بن سليمان، ثنا جعفر بن محمد المرزبان، أنا خلف يعني ابن يحيى، ثنا إسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن أبي الدرداء، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌قرأ ‌مائتي ‌آية ‌في ‌كل ‌يوم ‌نظرا؛ شفع في سبعة قبور حول قبره، وخفف الله عن والديه وإن كانا مشركين»
وفيه "خلف بن يحيى" قال ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل"(372/3)(1697):خلف بن يحيى...متروك الحديث ‌كان ‌كذابا لا يشتغل به ولا بحديثه وهو الذي قال لنفسه الشعر شبرا خلفا.وأقره الذهبي في الميزان(663/1)(2550)
والحديث أورده ابن عراق الكناني في "تنزيه الشريعة"(263/1)(22)وقال: هو من طريق خلف بن يحيى أحد الكذابين فلا يصلح شاهدا والله أعلم. والحديث ذكره السيوطي في "جمع الجوامع"(7/245)(22762)وعزاه إلي الديلمي وابن أبي داود في "المصاحف" وقال: وفيه إسماعيل بن عياش عن يحيى بن سعد.


وشاهد الحديث من عبدالله بن عمر رضي الله عنه:
قد أخرجه ابن حبان في "المجروحين"(2/330)(1017) في ترجمة " محمد بن المهاجر البغدادي"من طريقه بلفظ:من حفظ القرآن نظرا خفف عن أبويه العذاب وإن كانا كافرين ومتع ببصره وقال: وهذا موضوع لا شك فيه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 56 May 06, 2024
rozana quran kareem ki 200 aayat dekh kar tilawat karne ki fazilat se mutaliq hadees ki tehqiq

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.