resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غیر ماثور ومنقول درود شریف کی تحقیق اور حکم

(39813-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! درجِ ذیل درود شریف کی تصدیق فرمادیں، نیز اس درود شریف کی نسبت سے ایک بادشاہ کا قصہ اور اس کے پڑھنے والے کو 10 لاکھ نیکیوں کا ثواب ' کیا یہ باتیں مستند ہیں؟ درود شریف یہ ہے:" اللھم صل علی سیدنا ونبینا محمد وآلہ ما اختلف الملوان وتعاقب العصران وکر الجدیدان واستقبل الفرقدان، وبلغ روحه وأرواح أهل بيته مني التحية والسلام"۔

جواب: واضح رہے کہ درود شریف پڑھنے کے سلسلہ میں یہ بات ضروری نہیں کہ ہر درود شریف کے تمام کلمات آنحضرت ﷺ سے بعینہ منقول ہوں، بلکہ صرف درست مفہوم پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس درود کا پڑھنا فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ لہذا سوال میں پوچھا گیا درود شریف معنی کے اعتبار سے بالکل درست ہے، اس بناء پر اگر کوئی شخص مذکورہ درود پڑھنے کا ذوق و شوق رکھتا ہو تو وہ پڑھ سکتا ہے، البتہ سوال میں پوچھا گیا واقعہ کسی مستند سند کے ساتھ کتب میں واقع نہیں ہوا ہے، صرف صاحبِ"روح البیان" امام ابو الفداء إسماعيل حقي استنبولی(المتوفی: 1127ھ) نے اپنی تفسیر میں بغیر کسی سند کے بصیغہ مجہول واقعہ کو ذکر کیا ہے، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس قصّہ اور واقعہ کی تصدیق نہ مل جائے، اس وقت تک اس قصہ کو بیان کرنے سے احتراز کیا جائے۔
باقی تفسیر روح البیان میں ذکر کردہ واقعہ کا ترجمہ درجِ ذیل ہے:
"ایک شخص سلطان محمود غزنوی کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ میں ایک مدت سے نبیﷺ کی خواب میں زیارت کا مشتاق تھا، تاکہ ان کو اپنے غم وکرب کی کیفیت سے آگاہ کروں، مگر یہ موقعہ نصیب نہیں ہوا، لیکن گزشتہ رات میری قسمتی چمک ل اٹھی، میں خواب میں نبیﷺ کی زیارت سے شرف اندوز ہوا، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں دس ہزار درھم کا مقروض ہوں، ادائیگی سے عاجز ہوں، اب اندیشہ رہتا ہے کہ کسی بھی وقت اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں اور میری گردن پر قرض کا یہ بار باقی رہے۔ اس بات کو سننے کے بعد نبیﷺ نےفرمایا: "محمود غزنوی کے پاس جاؤ، اور اس سےمکمل رقم وصول کرلو۔
وہ شخص کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! وہ تو ایسے میری بات کو قبول نہیں کریں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان سے کہنا کہ تم مجھ پر رات کے ابتدائی اور انتہائی پہر(وقت) تیس تیس ہزار مرتبہ درود پاک بھیجتے ہو (جو کسی انسان کے علم میں نہیں ہے)۔
وہ شخص سلطان محمود غزنویؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور رات والا خواب سنایا، اس خواب کا سننا تھا کہ سلطان محمود کی آنکھیں بھر آئیں، اور مکمل رقم سمیت ایک ہزار اضافی عنایت کیے۔ دربار میں موجود حاضرین کافی حیران ہوئے اور عرض کیا کہ اے سلطان ِ وقت! ہم تو ان دونوں موقعوں پر آپ کے ہمراہ ہوتے ہیں، ہم نے تو کبھی اس معمول کو اختیار کرتے نہیں دیکھا اور خود ساٹھ ہزار بار درود شریف پڑھنا یہ تو شاید ہی کسی انسان کی قدرت میں ہو۔ سلطان نے فرمایا: میں نے علماء سے سنا ہے کہ ایک درود شریف ایسا ہے جس کا ایک دفعہ پڑھنا ایک ہزار بار درود شریف پڑھنے کے مترادف ہے، اور یہ درود شریف میں رات کے ابتدائی اور انتہائی پہر (وقت) تین تین دفعہ پابندی سے پڑھتا ہوں۔ یہ شخص اپنے خواب میں سچا ہے۔ وہ درود شریف یہ ہے: (ترجمہ) "اے اللہ! ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر رحمتوں کا نزول فرما، جتنا کہ زمانے کے رنگ بدلتے ہیں، زمانہ کی گردش کا تسلسل ہے، نئے دن آتے ہیں اور ستارے اپنی جگہ پر ہیں، اور ان کی روح اور اہل بیت کی روحوں تک ہماری طرف سے سلام پہنچا۔ اور ان پر کثرت سے برکت اور سلامتی نازل فرما۔" (روح البیان ، تفسیر سورة الأحزاب، آیت نمبر:56، 234/7، الناشر: دار الفكر – بيروت)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

روح البيان، لأبي الفداء إسماعيل حقي بن مصطفى الإستانبولي الحنفي الخلوتي (ت 1127ه)، تفسیر سورة الأحزاب، رقم الآیة:56، 234/7، الناشر: دار الفكر – بيروت:
ومنها: قوله" اللهم صل على سيدنا محمد ما اختلف الملوان وتعاقب العصران وكرّ الجديدان واستقل الفرقدان وبلغ روحه وأرواح اهل بيته منا التحية والسلام وبارك وسلم عليه كثيرا)
[آورده اند كه كسى نزد سلطان غازى محمود غزنوى آمد وكفت مدتى بود كه حضرت پيغمبر را عليه السلام ميخواستم كه در خواب ببينم وغمى كه در دل دارم بآن دلدار غمخوار بازگويم همه شب ديده بعمدا نكشايم از خواب … بو كه در خواب بدان دولت بيدار رسم ، قضا را سعادت مساعده نموده شب دوش بدان دولت بيدار رسيدم ورخسار جانفزاى جهان آرايش «كالقمر ليلة البدر وكالروح ليلة القدر» ديدم چون آن حضرت را منبسط يافتم كفتم يا رسول الله هزار درم قرض دارم اداى ويرا قادر نيستم ومى ترسم كه أجل در رسد ووام در كردن من بماند حضرت پيغمبر عليه السلام فرمود كه نزد محمود سبكتكين رو واين مبلغ ازو بستان كفتم يا سيد البشر شايد از من باور نكند ونشانى طلبد كفت بگو بدان نشانى كه در أول شب كه تكيه ميكنى سى هزار بار بر من درود مى دهى وباخر شب كه بيدار ميشوى سى هزار نوبت ديكر صلوات مى فرستى وام مرا ادا كن سلطان محمود بگريه درآمد واو را تصديق كرده قرضش ادا كرد وهزار درم ديكرش بداد اركان دولت متعجب شده كفتند اى سلطان اين مرد را درين سخن محال كه كفت تصديق كردى وحال آنكه ما در أول شب وآخر با توييم ونمى بينم كه بصلوات اشتغال ميكنى واگر كسى بفرستادن درود مشغول كردد وبجدي وجهدى كه زياده از ان در حين تصور نيايد در تمام اوقات وساعات شبانه روز شصت هزار بار صلوات نميتواند فرستاد باندك فرصتى در أول وآخر شب چكونه اين صورت تيسييرپذير باشد سلطان محمود فرمود كه من از علما شنوده بودم كه هر كه يكبار بدين نوع صلوات فرستد كه (اللهم صل على سيدنا محمد ما اختلف الملوان إلخ) چنان باشد كه ده هزار بار صلوات فرستاده باشد ومن در أول شب سه نوبت ودر آخر شب سه كرت اين را مى خوانم و چنان ميدانم كه شصت هزار صلوات فرستاده ام پس اين درويش كه پيغام سيد أنام عليه الصلاة السلام آورده است كفت آن كريه كه كردم از شادى بود كه سخن علما راست بوده وحضرت رسول عليه الصلاة والسلام بران كواهى داده]

الموسوعة القرآنية، لإبراهيم بن إسماعيل الأبياري (ت 1414ه)،555/10، سورة الأحزاب، رقم الآية:56 إلی 59، الناشر: مؤسسة سجل العرب)
الصلاة من الله رحمته ورضوانه. ومن الملائكة الدعاء ‌والاستغفار. ومن الأمة الدعاء والتعظيم لأمره.

معارف القرآن میں مفتی شفیع عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
درودشریف کے بہت سے صیغے (الفاظ) منقول ہیں، علماء نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں، البتہ یہ ضروری نہیں کہ وہ تمام کلمات آں حضرت ﷺ سے بعینہٖ منقول ہوں، بلکہ کسی بھی درست مفہوم پرمشتمل کلمات سے درود پڑھ سکتے ہیں اوراس سے حکم کی تعمیل اوردرودوسلام پڑھنے کاثواب حاصل ہوجاتاہے،مگر ظاہر ہے کہ جوالفاظ خودحضور ﷺ سے منقول ہیں وہ زیادہ بابرکت وباعث اجرہیں۔ (معارف القرآن، ج:۷، ص:۲۲۳)

والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees