resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عجوہ کھجور کی گٹھلیوں کے ذریعے جادو سے حفاظت، مستند بات کی تحقیق

(39783-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! ایک سوال یہ پوچھنا ہے کہ عجوہ کھجور کی فضیلت کسی مستند حدیث میں وارد ہے؟ کیونکہ عوام میں مشہور ہے کہ اس کی گٹھلیاں اگر گھر میں ڈال دی جائیں تو جادو سے حفاظت کا سبب بنتے ہیں۔ براہِ کرم شرعی لحاظ سے رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ صبح کے وقت سات عدد عجوہ کھجور نہار منہ کھانے سے زہر اور جادو سے حفاظت ہوتی ہے، البتہ اس کی گٹھلی کے حوالہ سے کوئی مخصوص فضیلت کا تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ ہاں! اگر عاملین کے تجربہ سے اس سلسلہ میں جادو سے حفاظت ثابت ہو تو یہ ممکن ہوسکتا ہے، لیکن اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے تجربہ کے درجہ میں ہی رکھا جائے گا۔
تاہم اتنی بات حدیث مبارک میں ضرور ملتی ہے کہ اس کی گٹھلیوں کو پیس کر مالیدہ (ملیدہ) بنانے کے بعد استعمال کرنے کی صورت میں دل کی تکالیف سے افاقہ ہوتا ہے، لہذا اجسام و طبیعت کے مختلف ہونے کی وجہ سے کسی ماہرِ دین دار ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد اس کو استعمال کیا جائے۔ باقی کسی بھی قسم کی کھجور کھانے کے بعد اس کی گٹھلی کو پھینکنا شرعاً ممنوع نہیں ہے۔
ذیل میں دونوں روایات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
(1) حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: "جس شخص نے صبح (نہار منہ) سات عدد عجوہ کھجور استعمال کی، جادو اور زہر اس دن نقصان نہیں پہنچائے گا۔" (صحیح البخاری، باب الدواء بالعجوة للسحر، 399/7، رقم الحدیث:5768، الناشر: دار التأصيل – القاهرة)
(2)حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک موقع پر بیمار ہوا تو رسول اللہﷺ میری عیادت کو تشریف لائے، اور اپنا دستِ اقدس میرے سینے پر رکھا، اور اتنی دیر تک رکھا کہ اس کی ٹھنڈک کو میں نے اپنے دل میں محسوس کیا، پھر آپﷺ نے فرمایا: "تم کو دل کی شکایت ہے، حارث بن کلدہ کے پاس جاکر اپنا علاج کراؤ، جو بنو ثقیف کا بھائی ہے اور وہ طبیب ہے، سو اس کو مدینہ طیبہ کی سات کھجوریں لے کر انہیں ان کی گٹھلیوں سمیت پیس لے، اور ان کا مالیدہ سا بناکر تمہارے منہ میں رکھے۔" (سنن أبي داود، کتاب الطب، باب في تمرة العجوة، 7/4، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل :

صحیح البخاری،لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل الجعفي البخاري (ت 256 ه)، (باب الدواء بالعجوة للسحر، 399/7، رقم الحدیث:5768، الناشر: دار التأصيل – القاهرة):
عامر بن سعد، عن أبيه-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من تصبح كل يوم سبع تمرات ‌عجوة، لم يضره في ذلك اليوم سم ولا سحر).

سنن أبي داود، لأبي داود سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني (ت 275 ه)، کتاب الطب، باب في تمرة العجوة، 7/4، رقم الحدیث: 3875، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد [ت 1392 ه]، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت):
عن سعد-رضي الله عنه-، قال: مرضت مرضا، أتاني رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يعودني، فوضع يده بين ثديي، حتى وجدت بردها على فؤادي فقال: «إنك رجل مفئود، ائت الحارث بن كلدة -أخا ثقيف-؛ فإنه رجل يتطبب، فليأخذ سبع تمرات من ‌عجوة المدينة، فليجأهن بنواهن، ثم ليلدك بهن»

المعلم بفوائد صحیح مسلم، لأبي عبد الله محمد بن علي التَّمِيمي المازري المالكي (ت 536 ه)، (کتاب الاطعمة، 121/3، المحقق: فضيلة الشيخ محمد الشاذلي النيفر [ت 1417 ه]، الناشر: الدار التونسية للنشر):
قال الشّيخ -وفّقه الله-: هذا مما لا يعقل معناه في طريقه علم الطّبّ، وَلَو صحّ أن يخرج لمنفعة التّمر في السمّ وجه من جهة الطبّ لمَ يقدر على إظهار وجه الاقتصار على هذا العدد، الّذي هو سبعٌ ولا على الاقتصار على هذا الجنس الذي هو العجوة۔ ولعلّ ذلك كان لأهل زَمَانه ﷺ خاصةً أو لاكثرهم، إذ لم يثبت عِندي استمرار وقوع الشّفاء بذلك في زمننا غالبا وإن وجد ذلك في زماننا في أكثر النّاس حمل على أنّه أراد وصفَ غالبِ الحال.

تحفة الأبرار شرح مصابيح السنة، للقاضي ناصر الدين عبد الله بن عمر البيضاوي (ت 685ه)، (کتاب الاطعمة، 115/3، المحقق: لجنة مختصة بإشراف نور الدين طالب، الناشر: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بالكويت):
و (الفؤاد): هو القلب، وقيل: غشاؤه، وقيل: كان سعد مصدورا، فكنى بالفؤاد عن الصدر؛ لأنه محله، ولأن مرضه يؤثر فيه بسبب المجاورة، وإنما نعت له العلاج بعد ما أحاله إلى الطبيب؛ لما رأى هذا النوع من العلاج أيسر وأنفع، أو ليثق على قول الطبيب إذا رآه موافقا لما نعته.

شَرْحُ صَحِيح مُسْلِمِ لِلقَاضِى عِيَاض -المُسَمَّى إِكمَالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم-، لأبي الفضل القاضي عياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي (ت 544ه)، (باب فضل تمر المدینة، 531/6، المحقق: الدكتور يحْيَى إِسْمَاعِيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر):
قال القاضى: تخصيصه ﷺ ذلك بعجوة العالية وبما بين لابتى المدينة، يرفع هذا الإشكال، ويكون خصوصاً لها، كما وجد الشفاء لبعض الأدواء فى بعض الأدوية، التى تكون في بعض البلاد دون ذلك الجنس فى غيره؛ لتأثير يكون فى ذلك من الأرض أو الهواء، والله أعلم.

والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees