سوال:
محترم مفتی صاحب! روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"حضرت علی اللہ کی طرف بلانے والے ہیں، اور معاویہ جہنم کی طرف بلانے والے ہیں"۔ کیا حدیث عمّار کا یہ مفہوم درست ہے؟
جواب: واضح رہے کہ حدیث عمّار کو متعدّد محدّثین عظام رحمہم اللہ نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے، اسی بناء پر بعض علماء نے اس روایت کو متواتر روایات میں شمار کیا ہے، روایت کا درست مفہوم سمجھنے سے قبل یہ جان لینا چاہیے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ " جنگ جمل" کے موقع پر حضرت علیؓ کے سرگرم ساتھیوں میں سے تھے اور انھوں نے پوری قوت کے ساتھ حضرت علیؓ کے مخالفین کامقابلہ کیا، آنحضرتﷺ نے ان کے لیے شہادت کی پیش گوئی فرمائی تھی۔
اگر غور کیا جائے تو نبیﷺ کی پیش گوئی سے ہی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان پیش آنے والے اختلافات و جنگی صورت جس کو " مشاجراتِ صحابہ" کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس میں کوئی فریق بھی کھلے باطل پر نہ تھا، بلکہ ہر ایک فریق اللہ کی رضا کے لیے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق کام کررہا تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر یہ اختلاف کھلے حق و باطل کا اختلاف ہوتا تو ہر ایک فریق کے رہنماؤں کے لیے بیک وقت شہادت کی پیش گوئی نہ فرمائی جاتی۔ ان ارشادات نے یہ واضح کردیا کہ حضرت طلحہؓ وزبیرؓ بھی اللہ کی خوشنودی کے لیے لڑ رہے تھے، اس لیے وہ بھی شہید ہیں اور حضرت عمارؓ کا مقصد بھی رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا، اس لیے وہ بھی لائق مدح وستائش ہیں۔ دونوں کا اختلاف کسی دنیوی غرض سے نہیں، بلکہ اجتہاد ورائے کی بنا پر تھا اور ان میں سے کسی بھی فریق کو مجروح ومطعون نہیں کیاجاسکتا۔
روایت کی بے غبار تشریح:
اس مختصر تمہید کو سمجھنے سےیہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ روایت میں "حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو جنت کی جانب بلانے والا اور ان کے مخالفین جہنم کی دعوت لینے والے ہیں"، دراصل حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے گمان کے مطابق ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ ہر دو فریق اپنے اجتہاد کی بناء پر خود کو حق پر تصوّر کررہا تھا۔
اس حوالہ سے علامہ ابن فورک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "ہمارے مشایخ نے لکھا ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان مشاجرات کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان پیش آنے والے واقعات ہیں، چنانچہ وہ سب حضرات آپس کے اختلافات کے باوجود ولایت اور نبوت کی حدود سے خارج نہیں ہوئے، یہی کچھ صورتحال حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہے، وہ سب ان باہمی اختلافات کے باوجود عادل وثقہ ہیں۔ (تفسیر القرطبي، سورة الحجرات، 322:16، الناشر: دار الكتب المصرية – القاهرة)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح البخاري: (باب التعاون في بناء المسجد، 172/1، ط: دار ابن كثير)
عن عكرمة: قال لي ابن عباس ولابنه علي: انطلقا إلى أبي سعيد، فاسمعا من حديثه، فانطلقنا، فإذا هو في حائط يصلحه، فأخذ رداءه فاحتبى، ثم أنشأ يحدثنا، حتى أتى ذكر بناء المسجد، فقال: كنا نحمل لبنة لبنة، وعمار لبنتين لبنتين، فرآه النبي صلى الله عليه وسلم، فينفض التراب عنه، ويقول: (ويح عمار، تقتله الفئة الباغية، يدعوهم إلى الجنة، ويدعونه إلى النار). قال: يقول عمار: أعوذ بالله من الفتن.
المعجم الكبير: (ط: مکتبة ابن تیمية)
عن ثوبان—رضي الله عنه- ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا، وإذا ذكرت النجوم فأمسكوا، وإذا ذكر القدر فأمسكوا»
فتح الباري لابن حجر العسقلاني: (ط: المكتبة السلفية – مصر)
واتفق أهل السنة على وجوب منع الطعن على أحد من الصحابة بسبب ما وقع لهم من ذلك ولو عرف المحق منهم؛ لأنهم لم يقاتلوا في تلك الحروب إلا عن اجتهاد، وقد عفا الله تعالى عن المخطئ في الاجتهاد، بل ثبت أنه يؤجر أجرا واحدا، وأن المصيب يؤجر أجرين ۔
تفسیر القرطبي: (الحجرات، 322:16، ط: دار الكتب المصرية – القاهرة)
قال ابن فورك: ومن أصحابنا من قال إن سبيل ما جرت بين الصحابة من المنازعات كسبيل ما جرى بين إخوة يوسف مع يوسف، ثم إنهم لم يخرجوا بذلك عن حد الولاية والنبوة، فكذلك الأمر فيما جرى بين الصحابة-رضي الله عنهم-.
تفسیر القرطبي: (الحجرات، 322:16، ط: دار الكتب المصرية – القاهرة)
العاشرة- لا يجوز أن ينسب إلى أحد من الصحابة خطأ مقطوع به، إذ كانوا كلهم اجتهدوا فيما فعلوه وأرادوا الله عز وجل، وهم كلهم لنا أئمة، وقد تعبدنا بالكفّ عما شجر بينهم، وألا نذكرهم إلا بأحسن الذكر، لحرمة الصحبة ولنهي النبي ﷺ عن سبهم، وأن الله غفر لهم، وأخبر بالرضا عنهم.
هذا مع ما قد ورد من الأخبار من طرق مختلفة عن النبي ﷺ أن طلحة شهيد يمشي على وجه الأرض، فلو كان ما خرج إليه من الحرب عصيانا لم يكن بالقتل فيه شهيدا. وكذلك لو كان ما خرج إليه خطأ في التأويل وتقصيرا في الواجب عليه؛ لأن الشهادة لا تكون إلا بقتل في طاعة، فوجب حمل أمرهم على ما بيناه.
ومما يدل على ذلك ما قد صح وانتشر من أخبار علي-رضي الله عنه- بأن قاتل الزبير في النار. وقول: سمعت رسول الله َ يقول:" بشّر قاتل ابن صفية بالنار ". وإذا كان كذلك فقد ثبت: أن طلحة والزبير غير عاصيين ولا آثمين بالقتال؛ لأن ذلك لو كان كذلك لم يقل النبي ﷺ في طلحة: شهيد ، ولم يخبر أن قاتل الزبير في النار.
والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،کراچی