resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: خدا کی رضامندی اور ناراضگی کی علامت

(40932-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! درج ذیل روایت کی تصدیق فرمادیں۔
عن عمر بن الخطاب قال: حدثت أن موسى أو عيسى عليهما السلام [قال]: يا رب ما علامة رضاك عن خلقك؟ فقال عز وجل: «أن أنزل عليهم الغيث إبان زرعهم وأحبسه إبان حصادهم وأجعل أمورهم إلى حلمائهم وفيئهم في أيدي سمحائهم. قال: يا رب فما ‌علامة ‌السخط؟ قال:«أن أنزل عليهم الغيث إبان حصادهم وأحبسه إبان زرعهم وأجعل أمورهم إلى سفهائهم وفيئهم في أيدي بخلائهم».
ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " مجھے بیان کیا گیا کہ ایک موقع پر حضرت موسی یا عیسی علیہما السلام نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب، مخلوق سے آپ کی رضامندی کی علامت کیا ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: میں ان پر اپنی رحمت بارش کی صورت میں کھیتی کے وقت نازل کروں اورکٹائی کے وقت روک لوں۔اور ان کے معاملات ان کے دانشمند اور بردبار لوگوں کے سپرد کردوں ، اور ان کے مال کو سخی لوگوں کے ہاتھ میں دے دوں۔
پھر عرض کیا کہ اے ہمارے رب! مخلوق سے ناراضگی کی علامت کیا ہے؟فرمایا: میں ان پر کھیتی کے کٹائی کے وقت بارش اتاروں اور کھیتی کے وقت روک لوں،اور ان کے معاملات نادان لوگوں کے سپرد کردوں، اور ان کا مال بخیل لوگوں کے ہاتھوں میں دے دوں"۔

جواب: سوال میں ذکر کردہ روایت کو امام بیہقی نے اپنی کتاب "شعب الایمان" میں، جبکہ علامہ سیوطی رحمہما اللہ نے اپنی تفسیر "الدر المنثور" میں نقل کیا ہے، چونکہ روایت میں موجودہ راوی ثقہ و معتبر ہیں، نیز روایت کا مضمون قرآن مجید کی آیت سے مستفاد اور دیگر احادیث مبارکہ سے مؤیّد ہے، لہذا روایت کو آگے نقل کرنا درست ہے۔ ذیل میں روایت کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " مجھے بیان کیا گیا کہ ایک موقع پر حضرت موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب! مخلوق سے آپ کی رضامندی کی علامت کیا ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: "میں ان پر اپنی رحمت بارش کی صورت میں کھیتی کے وقت نازل کروں اور کٹائی کے وقت روک لوں۔اور ان کے معاملات ان کے دانشمند اور بردبار لوگوں کے سپرد کردوں ، اور ان کے مال کو سخی لوگوں کے ہاتھ میں دے دوں۔"
پھر عرض کیا کہ اے ہمارے رب! مخلوق سے ناراضگی کی علامت کیا ہے؟ فرمایا: "میں ان پر کھیتی کے کٹائی کے وقت بارش اتاروں اور کھیتی کے وقت روک لوں، اور ان کے معاملات نادان لوگوں کے سپرد کردوں، اور ان کا مال بخیل لوگوں کے ہاتھوں میں دے دوں"۔
(شعب الایمان، فصل في فضل الامام العادل، 23/6، رقم الحدیث: 7392، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت- لبنان)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

شعب الایمان،لأبي بكر أحمد بن الحسين البيهقي ( 458 ه)، (فضل في فضل الامام العادل، 23/6، رقم الحدیث: 7392، المحقق: أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت- لبنان):
عن عمر بن الخطاب قال: حدثت أن موسى أو عيسى -عليهما السلام- [قال]: يا رب ما علامة رضاك عن خلقك؟ فقال عز وجل: «أن أنزل عليهم الغيث إبان زرعهم، وأحبسه إبان حصادهم، وأجعل أمورهم إلى حلمائهم، وفيئهم في أيدي سمحائهم. قال: يا رب فما ‌علامة ‌السخط؟ قال:«أن أنزل عليهم الغيث إبان حصادهم وأحبسه إبان زرعهم وأجعل أمورهم إلى سفهائهم وفيئهم في أيدي بخلائهم».

تفسیر الماتریدي، لأبي الحسن علي بن محمد البصري البغدادي، الشهير بالماوردي (ت 450ه)، (203/5، سورة الشوری، رقم الآیة: 25، المحقق: السيد ابن عبد المقصود بن عبد الرحيم، الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان):
قوله عز وجل: {وَهُوَ الَّذِي ‌يُنَزِّلُ ‌الْغَيْثَ مِن بَعدِ مَا قَنَطُواْ} والقنوط الإياس ، قاله قتادة. قيل لعمر بن الخطاب رضي الله عنه: جدبت الأرض وقنط الناس فقال: "مطروا إذن". والغيث ما كان نافعاً في وقته ، والمطر قد يكون ضاراً ونافعاً في وقته وغير وقته. {ويَنشُرُ رَحْمَتَهُ} بالغيث فيما يعم ويخص.

شعب الایمان،لأبي بكر أحمد بن الحسين البيهقي ( 458 ه)، (فضل في فضل الامام العادل، 22/6، المحقق: أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت- لبنان):
عن داود بن أبي هند عن الحسن، أن بني إسرائيل سألوا موسى -عليه السلام- قالوا: سل لنا ربك يبين لنا علم رضاه عنا وعلم سخطه؟ فسأله فقال: يا موسى أبلغهم أن رضاي عنهم أن أستعمل عليهم خيارهم، وأن سخطي عليهم أن أستعمل عليهم شرارهم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees