سوال:
نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے آدھے کے برابر نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی تو ان کی عقل کا نقصان ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2658]
اس حدیث کی وضاحت فرما دیجئے۔ کیا اس حدیث میں مرد کی گواہی دو عورتوں کے برابر ہونے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ عورتیں عقل میں مردوں سے کم ہیں؟ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر کیوں رکھی گئی ہے؟ اس کی اصل وجہ کیا ہے؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ حکم مطلق نہیں ہے، بلکہ اس میں تفصیل ہے، اور وہ یہ کہ جن معاملات کا تعلق خواتین سے ہے ان میں صرف خواتین کی گواہی قبول ہے، جیسے ولادت، عدّت، بکارت، حیض وغیرہ۔
اور مالی معاملات میں دو مرد گواہوں کی عدم موجودگی میں ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی کو بھی قبول کیا گیا ہے، جبکہ حدود میں عورت کی گواہی سرے سے مقبول نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ گواہی کا تعلق فضیلت سے نہیں، بلکہ اس کا تعلق ذمّہ داری سے ہے، اور گواہی ایک بھاری بھر کم ذمّہ داری ہے، اور مالی معاملات میں اکیلی عورت اس ذمّہ داری کی متحمل نہیں ہوسکتی، اور حدود میں تو بلکل بھی متحمّل نہیں ہے، اس لیے حدود جیسے اہم معاملات میں خواتین پر نہ ہی گواہی کی ذمّہ داری ہے، اور نہ ہی ان کی گواہی مقبول ہے، لیکن دوسری طرف جو امور خواتین سے متعلق ہیں ان میں صرف خواتین کی گواہی مقبول ہے، جیسے ولادت، عدّت، بکارت، حیض وغیرہ۔
مالی معاملات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے، اور یہ حکم قرآن سے ثابت ہے، جس پر امت کا اتفاق ہے۔ خود قرآن شریف میں اس حکم کے ساتھ اس کی وجہ بھی بیان فرمائی گئی ہے كه اگر ايک عورت کچھ بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلاسکے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ●﴾
اس کی عملی وجہ یہ ہے کہ لین دین، عدالت اور خرید و فروخت جیسے معاملات میں زیادہ تر مرد ہی شامل ہوتے ہیں، خواتین کی روزمرَّہ ذمّہ داریاں عام طور پر گھر کے اندر ہوتی ہیں اور انہیں باہر کے مالی امور کا کم سامنا ہوتا ہے۔ اسی لیے گواہی کے وقت ذہنی دباؤ یا بھول کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے، اور ساتھ موجود دوسری عورت اس کی بات کو مضبوط بنا دیتی ہے۔
عام طور پر اس بات پر اس حکم میں اشکال کی بنیاد "عورت اور مرد میں یکسانیت اور برابری کا دعوی" ہوتا ہے، جو بالکل بداہت کے خلاف ہے۔ اس لیے اللہ نے مرد کو مردانہ صفات اور عورت کا نسوانی صفات کے ساتھ پیدا کیا ہے، مرد کی خوبی اور خوب صورتی مردانگی اور عورت کی خوب صورتی اس کی زنانہ صفات و انداز میں ہی منحصر ہے۔ جس میں جزوی فضیلتیں دونوں طرف سے موجود ہیں، اور ہر چیز میں برابری کا دعویٰ بجائے خود غلط اور دلیل کا محتاج ہے۔ اس لیے اگر گواہی کے مسئلہ میں دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے تو یہی فطرت اور نفس الامری حقیقت بھی اسی کی متقاضی ہے۔
عورت کو فطرتاً جسمانی اعتبار سے کمزور پیدا کیا گیا ہے، اور اسی کمزوری میں ہی نسوانی نزاکت اور خوبصورتی ہے، اگر عورت جسمانی اور ذہنی طور پر مرد کی طرح مضبوط ہوتی تو اس میں نسوانی نزاکت اور کشش کا وہ معیار باقی نہ رہتا۔
عورت کی ذہنی صلاحیت کم نہیں ہوتی، البتہ اس کی طبیعت اور اس کی عام ذمّہ داریاں کچھ اور طرح کے کاموں سے زیادہ میل ومطابقت رکھتی ہیں۔ اسی فرق کو دیکھتے ہوئے مالی گواہی میں اضافی تحفّظ اور حکیمانہ طرزِ عمل کے اصول کو مدّنظر رکھتے ہوئے ایک خاتون کے ساتھ دوسری کو شامل کر کے مزید احتیاط کی گئی ہے۔
بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ عورت پر گواہی کی بھاری بھرکم ذمہ داری نہ ڈال کر شریعت نے عورت کی ذمّہ داریوں (obligations) میں واضح رعایت (relaxation) دی ہے، نہ یہ کہ اس کے حقوق (rights) میں کچھ کمی کی ہے۔
اس پوری تفصیل سے اصل مقصود اس حکم کا مختلف حکمتوں کی طرف اشارہ کرنا مقصد ہے، تاکہ اس کو مکمل سمجھ کر قلبی اطمینان ہوجائے، ورنہ ایک مسلمان کے لیے اتنی وجہ ہی کافی ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے یہ بات یوں ہی ارشاد فرمائی ہے، لہٰذا اسے اپنے دل و جان سے قبول کرے، چاہے اس کو حکمت سمجھ میں نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ٢٨٢)*
﴿ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ●﴾
*تفسير ابن كثير: (2/ 508، ط: أولاد الشيخ)*
{فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَينِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ} وهذا إنما يكون في الأموال وما يقصد به المال، وإنما أقيمت المرأتان مقام الرجل لنقصان عقل المرأة، كما قال مسلم في صحيحه(1726): حدثنا قتيبة، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن عمرو بن أبي عمرو، عن المقبري، عن أبي هريرة، عن النبي، صلى الله عليه وسلم، أنه قال: "يا معشر النساء؛ تصدقن وأكثرن الاستغفار، فإني رأيتكن أكثر أهل النار". فقالت امرأة منهن جزلة: ومالنا يا رسول الله أكثر أهل النار؟ قال: "تكثرن اللعن وتكفرن العشير، ما رأيت من ناقصات عقل ودين أغلب لذي لب منكن".
قالت[2]: يا رسول الله، ما نقصان العقل والدين؟ قال: "أما نقصان عقلها فشهادة امرأتين تعدل شهادة رجل، فهذا نقصان العقل، وتمكث الليالي لا تصلي، وتفطر في رمضان فهذا نقصان الدين".
وقوله: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} فيه دلالة علي اشتراط العدالة في الشهود، وهذا مقيد حكم به الشافعي على كل مطلق في القرآن من الأمر بالإشهاد من غير اشتراط. وقد استدل من رد المستور بهذه الآية الدالة[3] علي أن يكون الشاهد عدَلًا مرضيًّا.
وقوله: {أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا} يعني المرأتين إذا نسيت الشهادة {فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى} أي: يحصل لها ذكر[4] بما وقع به من[5] الإِشهاد. ولهذا[6] قرأ آخرون (فتذّكر) بالتشديد من التذكار. ومن قال: إن شهادتها معها تجعلها كشهادة ذكر. فقد أبعد و الصحيح الأول، والله أعلم.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی