سوال:
محترم مفتی صاحب، مجھے درجِ ذیل روایت کی روشنی میں سوال پوچھنا تھا کہ اگر اونی موزے یا کپڑے سے تیار کردہ موزوں پر مسح نہیں ہے، صرف چمڑے کے موزوں پر مسح جائز ہے تو پھر ہمارے مسلک کے بانی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نےکپڑے کے موزہ پر مسح کیوں کیا، جیسا کہ درجِ ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے؟ براہِ کرم اس کا جواب قرآن وحدیث سے مرحمت فرمادیں۔
امام ابوعیسی ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے صالح بن محمد ترمذی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ابو مقاتل سمرقندی کو فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں کہ" میں ایک دن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو ان کی زیارت کو گیا تو میں نے دیکھا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور وضو کرنے کے بعد اپنے دونوں موزے( جو کپڑے کے تھے) پر مسح کیا پھر فرمایا: میں نے آج وہ عمل کیا ہے جسے میں نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا، میں نے اپنے ان موزے پر مسح کیا جو چمڑے کے نہیں ہیں"۔ (سنن ترمذی: ۱/۱۶۹)
جواب: واضح رہے کہ ہر سوال کے جواب کے لئے قرآن مجید کی صریح آیت اور حدیث مبارک کا مطالبہ کرنا درست نہیں، کیونکہ بعض مسائل صراحتاً قرآن وحدیث میں نہیں ملتے، بلکہ ان کے لیے ہمیں معتبر کتب لغت، فقہاء کی آراء، امّت کے متفقہ تعامل سمیت فریق ثانی کی پیش کردہ روایات کی صحت وسقم کی جانچ پڑتال کے بعد ہی شرعی مسئلہ کی جانب درست رہنمائی کی جاسکتی ہے۔
باقی جہاں تک سوال میں پوچھی گئی روایت کا تعلق ہے تو یہ عبارت ترمذی شریف کے مشہور نسخوں میں نہیں ہے، البتہ علامہ عابد سندھی والے قلمی نسخے میں یہ عبارت موجود ہے۔ بہرحال اس کا مطلب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ جوربین کی قسم "ثخینین"(غیر منعل وغیر مجلد) پر مسح کے جواز کے قائل ہوگئے تھے۔ اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا ہے کہ آپ نے مطلقاؐ کپڑے کے موزوں پر مسح کیا یا اس کے جواز کا فتوی دیا، بلکہ انہوں نے چمڑے کے موزے کی طرح چند مخصوص شرائط کے حامل موزوں پر مسح کے جواز کا فتوی دیا ہے، جس کو جوربین کی قسم "ثخینین" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
مزید تفصیل یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ متعدّد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ "جراب " کی اقسام میں سے" مجلّد" اور "منعّل" پر مسح بالاتفاق درست ہے، باقی "جراب " کی ایک قسم "ثخینین " ہے، اس میں امام ابوحنیفہ اور صاحبین رحمہم اللہ کے درمیان ایک عرصہ تک اختلاف رہا، اس سے مراد چمڑے کی مانند ایسے موزے ہیں، جن میں تین اوصاف موجود ہوں:(1) جن پر پانی ڈالا جائے تو موٹے ہونے کی وجہ سے ان میں پانی نہ چھنتا ہو۔ (2) ان کو پہن کر (بغیر جوتوں ) میں تین میل پیدل چلنا ممکن ہو۔ (3) وہ بغیر کسی چیز سے باندھے اپنی موٹائی اور سختی کی وجہ سے پنڈلی پر خود قائم رہ سکتے ہوں۔ مذکورہ اوصاف کی حامل " جرابیں" کیا خفین(چمڑے کے موزوں)کے حکم میں داخل ہیں یا نہیں؟
اس مسئلہ میں صاحبین رحمہما اللہ نے مذکورہ اوصاف کو شرائط قرار دے کر استدلال کی اقسام میں سے "دلالة النّص"(ایسا معنی ومفہوم جو الفاظ سے ثابت نہ ہوں، بلکہ ایسی علّت و سبب اس حکم کا باعث ہو جو اہل لسان بخوبی سمجھ سکتے ہوں) اور فتاوی تابعین (مثلاً حضرت حسن بصری اور سعید بن المسیب رحمہا اللہ) کی روشنی میں "خفین" (چمڑے کے موزے) کے حکم میں داخل کیا ہے۔ باقی مسلک حنفیت کے بانی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ابتداء میں یہ موقف رہا تھا کہ وہ جوربین کی قسم"ثخینین"کو مسح کے حکم میں داخل تسلیم نہیں کرتے تھے، چونکہ خود "جوربین" پر مسح سے متعلق روایات سنداً ضعیف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذخیرہ احادیث میں غور کرنے سے اس حوالہ سے ہمیں تین حدیثیں ملتی ہیں ، جن میں سے حضرت ابوموسی اشعری اور بلال رضی اللہ عنہما سے منقول روایات کو حافظ زیلعی رحمہ اللہ نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔ صرف حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ایسی ہے جس کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے "حسن صحیح" لکھا ہے، تاہم دیگر جلیل القدر محدّثین عظام رحمہ اللہ نےا س پر سخت تنقید کی ہے۔ (فقہی مقالات، از مفتی محمد تقی عثمانی، مروجہ مّوزوں پر مسح کا حکم،20/2، ضبط وترتیب :محمد عبداللہ میمن ، میمن اسلامک پبلشرز)
بہرحال! روایات کے سنداً ضعیف ہونے اور "جوربین" کی مختلف اقسام میں سے ایک قسم باریک کپڑے سے تیار کردہ موزوں کے عام رواج میں چلن اور معتبر کتب لغت سے تائید ملنے کی بناء پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ابتداء میں جوربین کی قسم "ثخینین" پر مسح کی اجازت نہیں دی، تاہم ایک عرصہ بعد مزید غور ووفکر کے نتیجہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے مرض الوفات میں اپنی سابقہ رائے سے رجوع فرماکر از خود جوربین کی قسم" ثخینین" پر مسح فرمایا اور اس پر مسح کے جواز کا فتوی دیا۔ اور یہی آپ رحمہ اللہ کا طرز تحقیق رہا ہے کہ اگر اپنے فتوی پر کوئی بہتر بات یا حدیث ملتی تو فوراً اپنی بات سے رجوع فرمالیتے تھے، جو ان کی دیانت وصداقت پر واضح دلیل ہے۔
تاہم جس قسم کے سوتی، اونی یا نائیلون کے موزے آج کل رائج ہیں، جیسا کہ سائل کو حدیث کے ترجمہ سمجھنے میں مغالطہ ہوا ہے، اور اس کو "کپڑے کے موزے" سے تعبیر کیا ہے، ان پر مسح کرنا ائمّہ مجتہدین میں سےکسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔
چونکہ امام ابوحنیفہ سے متعلق روایت میں "جوربین " پر مسح کا تذکرہ ملتا ہے، وہ دراصل چمڑے کے تھے یا اپنی موٹائی کی وجہ سے چمڑے کے موزوں کی طرح تھے۔ جیسا کہ متعدّد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جوربین پر مسح ثابت ہے، اسی بناء پر مشہور تابعین حضرت حسن بصری اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کو دیکھ کر ہی فتوی دیا ہے، چنانچہ ان کا فتوی مصنف بن ابی شیبہ میں درج ہے کہ "ایسے جرابوں پر مسح جائز ہے جو خوب مضبوط اور دبیز ہوں"۔ اسی موٹائی اور مضبوطی کی وضاحت کے لئے فقہاء کرام رحمہم اللہ نے مذکورہ تین شرائط کو لازم قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :
*سنن الترمذي، لأبي عیسی، محمد بن عيسى بن سَوْرة الترمذي، أبو عيسى (ت 279 ه)،(باب في المسح علی الجوربین والمنعلین، 121/1، حققه وخرج أحاديثه وعلق عليه: شعيب الأرنؤوط (جميع الأجزاء)، عبد اللطيف حرز الله (ج 1)، الناشر: دار الرسالة العالمية):*
عن المغيرة بن شعبة-رضي الله عنه- قال: توضأ النبي ﷺ ومسح على الجوربين والنعلين. هذا حديث حسن صحيح.
وهو قول غير واحد من أهل العلم، وبه يقول سفيان الثوري، وابن المبارك، والشافعي، وأحمد، وإسحاق، قالوا: "يمسح على الجوربين وإن لم تكن نعلين، إذا كانا ثخينين".
*البحر الرائق شرح کنز الدقائق، لزين الدين بن إبراهيم، المعروف بابن نجيم المصري (ت 970 ه)، (کتاب الطهارة، باب المسح علی الخفین، المسح علی الجورب، 192/1، وبالحاشية: «منحة الخالق» لابن عابدين [ت 1252 ه]، الطبعة: الثانية، تصوير: دار الكتاب الإسلامي):*
ثم المسح على الجورب إذا كان منعلا جائز اتفاقا، وإذا كان لم يكن منعلا، وكان رقيقا غير جائز اتفاقا، وإن كان ثخينا فهو غير جائز عند أبي حنيفة، وقالا: يجوز؛ لما رواه الترمذي عن المغيرة بن شعبة-رضي الله عنه- قال «توضأ النبي ﷺ، ومسح على الجوربين» وقال حديث حسن صحيح. ورواه ابن حبان في "صحيحه" أيضا؛ ولأنه يمكن المشي فيه إذا كان ثخينا۔
وله: أنه ليس في معنى الخف؛ لأنه لا يمكن مواظبة المشي فيه إلا إذا كان منعلا، وهو محمل الحديث۔ وعنه: أنه رجع إلى قولهما، وعليه الفتوى، كذا في "الهداية" وأكثر الكتب؛ لأنه في معنى الخف، فالتأويل المذكور للحديث قصر لدلالته عن مقتضاه بغير سبب، فلا يسمع على أن الظاهر أنه لو كان المراد به ذلك لنص عليه الراوي۔
*الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، لأبي بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة الكوفي العبسي (ت 235 ه)، (باب في المسح علی الجوربین، 171/1، رقم الحدیث: 1976، تقديم وضبط: كمال يوسف الحوت، الناشر: (دار التاج - لبنان)، (مكتبة الرشد - الرياض)، (مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة):*
عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، والحسن، أنهما قالا: «يمسح على الجوربين إذا كانا صفيقين»
*تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، لأبي العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى (ت 1353 ه)، (باب في المسح علی الجوربین، 284/1، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت):*
وأما أحاديث المسح على الجوربين، ففي صحتها كلام عند أئمة الفن، كما عرفت۔ فكيف يجوز العدول عن غسل القدمين إلى المسح على الجوربين مطلقا؟ وإلى هذا أشار مسلم بقوله: "لا يترك ظاهر القرآن بمثل أبي قيس وهزيل"۔ انتهى۔
فلأجل ذلك اشترطوا جواز المسح على الجوربين بتلك القيود؛ ليكونا في معنى الخفين، ويدخلا تحت أحاديث الخفين۔ فرأى بعضهم أن الجوربين إذا كانا مجلدين كانا في معنى الخفين، ورأى بعضهم أنهما إذا كان منعلين كانا في معناهما، وعند بعضهم أنهما إذا كانا صفيقين ثخينين كانا في معناهما، وإن لم يكونا مجلدين ولا منعلين۔ والله تعالى أعلم۔
*عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم، لمحمد أشرف بن أمير الصديقي، العظيم آبادي (ت 1329ه)، باب المسح علی الجوربین، 186/1، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت):*
الجورب، قال في القاموس: الجورب لفافة الرجل۔ وفي الصحاح: الجورب معرب، والجمع: الجواربة، والهاء للعجمة۔ ويقال: الجوارب أيضا، انتهى۔
قال الطيبي: الجورب: لفافة الجلد، وهو خف معروف من نحو الساق۔
قال أبو بكر بن العربي في "عارضة الأحوذي": الجورب: غشاء للقدم من صوف، يتخذ للدفاء، وهو التسخان۔ ومثله في قوة المغتذي للسيوطي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقال العلامة العيني من الأئمة الحنفية: "الجورب: هو الذي يلبسه أهل البلاد الشامية الشديدة البرد، وهو يتخذ من غزل الصوف المفتول يلبس في القدم إلى ما فوق الكعب، انتهى۔
وقد ذكر نجم الدين الزاهدي عن إمام الحنفية شمس الأئمة الحلواني: أن الجورب خمسة أنواع من المرعزى ومن الغزل والشعر والجلد الرقيق والكرباس۔ قال: وذكر التفاصيل في الأربعة من الثخين والرقيق والمنعل وغير المنعل والمبطن وغير المبطن، وأما الخامسة: فلا يجوز المسح عليه۔ انتهى
فعلم من هذه الأقوال: أن الجورب هو نوع من الخف إلا أنه أكبر منه، فبعضهم يقول هو إلى نحو الساق وبعضهم يقول: هو خف يلبس على الخف إلى الكعب۔ ثم اختلفوا فيه هل هو من جلد وأديم أو ما هو أعم منه من صوف وقطن۔ ففسره صاحب القاموس بلفافة الرجل، وهذا التفسير بعمومه يدل على لفافة الرجل من الجلد والصوف والقطن۔ وأما الطيبي والشوكاني، فقيداه بالجلد، وهذا مآل كلام الشيخ الدهلوي أيضا۔
والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص کراچی