resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: معدہ صحیح ہوگا تو تمام بدن تندرست ہوگا، روایت کی تحقیق

(42003-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! درج ذیل روایت کی تحقیق فرمادیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "معدہ بدن کا حوض ہے، جبکہ رگیں (مختلف جوانب) سے اس کی طرف آتی ہیں، جب معدہ درست ہوگا تو رگیں تندرستی لیکر واپس آتی ہیں، اور جب معدہ بیمار ہوتا ہے تو رگیں بیماری لیکر واپس آتی ہیں۔

جواب: سوال میں پوچھی گئی روایت کو امام طبرانی نے اپنی "معجم"، امام راغب اصفہانی نے "الطب النبوی" ، امام بیہقی رحمہم اللہ نے اپنی کتاب "شعب الایمان" میں نقل کیا ہے، اس روایت کی سند میں موجود راوی "یحیی بن عبداللہ البابلتی "پر کلام کیا ہے، چنانچہ امام عقیلی نے روایت کو باطل وموضوع تک قرار دیا ہے، مگر ملا علی قاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مسند عقیلی میں چونکہ ایک ہی سند مذکور ہے، لہذا اسی بناء پر انہوں نے باطل قرار دیا ہے، مگر درحقیقت طبرانی وبیہقی رحمہما اللہ نے متعدّد سندوں سے روایت کو نقل کیا ہے، جس سے روایت کے مضمون کو تقویت ملتی ہے۔ سو روایت کو موضوع و باطل قرار دینا درست نہیں، البتہ روایت کو "حسن" یا "ضعیف" قرار دیا جاسکتا ہے، بہرصورت روایت کو متعدّد طرق سے تقویت ملنے کی بناء پر آگے نقل کرنا درست ہے۔
*روایت کی دلنشین تشریح:*
علامہ طیّبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ذیل میں بہت بہترین انداز میں تشریح پیش کی ہے، جس سے نظامِ قدرت کی حسین جھلک سامنے آتی ہیں، وہ فرماتے ہیں:
" نبی اکرم ﷺ نے معدہ کو ایک تالاب (حوض) سے اور جسم کو درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جیسے درخت کی جڑیں پانی کے حوض سے پانی کھینچ کر شاخوں اور پتوں تک پہنچاتی ہیں، ویسے ہی جسم کی رگیں معدے سے غذا لے کر پورے بدن میں پہنچاتی ہیں۔ سو اب اگر حوض کا پانی صاف اور میٹھا ہو تو درخت ہرا بھرا اور تروتازہ رہتا ہے، لیکن اگر پانی خراب یا کھارا ہو تو درخت سوکھنے لگتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر معدے میں جانے والی غذا اچھی ہو تو جسم صحت مند رہتا ہے، اور اگر خراب ہو تو بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
اس نظامِ قدرت میں غور وفکر سے انسان عقل کی رسائی اس بات پر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں ایک قدرتی حرارت رکھی ہے جو غذا کو ہضم کرتی ہے، جیسے چراغ تیل کو جلاتا ہے۔ اسی طرح جسم میں ایک کھینچنے والی قوت بھی ہے جو رگوں کے ذریعے معدے سے ہضم شدہ غذا کو جگر تک پہنچاتی ہے، جہاں وہ مزید پکتی اور صاف ہو کر جسم کے لیے مفید بنتی ہے اور جسم میں ہونے والی کمی کو پورا کرتی ہے۔
یہ آمد و رفت بالکل ایسے ہی ہے جیسے پانی نہروں میں بہتا ہے یا پرنالے سے گزرتا ہے۔ اگر معدے میں موجود غذا اچھی ہو تو وہ جگر کے ذریعے بہترین غذا بن کر جسم کے اعضا کو طاقت دیتی ہے، لیکن اگر وہ غذا خراب ہو، مثلاً: زیادہ کھانے پینے یا غلط غذا کی وجہ سےتو وہ خراب مادے پیدا کرتی ہے جو بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے مقرّر کردہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔(شرح الطيبي، کتاب الطب والرقی، 2874/9، الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز (مكة المكرمة - الرياض)
اس کے علاوہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ ہم اس روایت کو طبِّ نبوی پر محمول کریں، ایسی صورت میں روایت کا مفہوم یہ ہوگا کہ انسان کے اعمال، اقوال اور آداب اس کے کھانے پینے کی نوعیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ اگر اس کے اندر حرام غذا داخل ہوگی تو اس سے حلال امور کا ظہور نہیں ہوگا، اسی طرح اگر فضول چیزیں جسم میں داخل ہوں گی تو اس سے گھٹیا اور کم تر نتائج ہی برآمد ہوں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کھانا دراصل اعمال کا بیج ہوتا ہے، اور اعمال اس پودے کی مانند ہیں جو فوراً ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسی بات کو اہل ِ عرب مشہور جملہ سے پیش کرتے ہیں کہ"ہر برتن وہی کچھ ٹپکاتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے"۔(مرقاة المفاتيح، کتاب الطب والرقی، 2886/7، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :
*المعجم الأوسط، لأبي القاسم سليمان بن أحمد الطبراني (260 - 360 ه)، (باب العین، من اسمه: عبدالله، 329/4، المحقق: أبو معاذ طارق بن عوض الله بن محمد - أبو الفضل عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، الناشر: دار الحرمين – القاهرة):*
عن أبي هريرة-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله ﷺ: «المعدة ‌حوض ‌البدن، والعروق إليها واردة، فإذا صحت المعدة صدرت العروق بالصحة، وإذا فسدت المعدة صدرت العروق بالسقم»
*کذا في "الطب النبوي"، لأبي نعيم أحمد بن عبد الله الأصبهاني (ت 430ه)،( باب ذكر المعدة وموضعها من البدن، 219/1، المحقق: مصطفى خضر دونمز التركي، الناشر: دار ابن حزم)۔*
*وکذا في" شعب الإيمان"، لأبي بكر أحمد بن الحسين البيهقي (384 - 458 ه)، (‌‌الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات، 66/5، المحقق: أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت- لبنان)*

*تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة، لنور الدين، علي بن محمد، ابن عراق الكناني (ت 963ه)، (کتاب الأطعمة، 242/2، المحقق: عبد الوهاب عبد اللطيف , عبد الله محمد الصديق الغماري، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت):*
[حديث] "المعدة ‌حوض ‌البدن والعروق إليها واردة، فإذا صحت المعدة صدرت العروق بالصحة، وإذا سقمت المعدة صدرت العروق بالسقم (عق)، من حديث أبي هريرة وقال: باطل لا أصل له، إنما يروى عن ابن أبجر وقال الدارقطني : تفرد برفعه إبراهيم ابن جريج ولم يسنده غيره، وكان طبيبا فجعل له إسنادا۔ (تعقب): بأن البيهقي أخرجه في "الشعب" وقال: إسناده ضعيف، وذكره الذهبي في "الميزان" في ترجمة "إبراهيم بن جريج"، وقال: منكر، وإبراهيم ليس بعمدة، وقال الحافظ ابن حجر في "اللسان": إبراهيم، ذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: روى عنه البابلتي خيرا منكرا (قلت): ولما أورده الهيثمي في "مجمع الزوائد" عن "المعجم الأوسط" أعله بيحيى البابلتي، وقال: هو ضعيف، وقضيته موافقة ابن حبان على توثيق إبراهيم، والبابلتي على ضعفه من رجال النسائي، والله أعلم.

*شرح الطيبي على مشكاة المصابيح المسمى ب (الكاشف عن حقائق السنن)، لشرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي (743 ه)، (کتاب الطب والرقی، 2874/9، المحقق: د. عبد الحميد هنداوي، الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز (مكة المكرمة - الرياض):*
عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: قوله: ((المعدة ‌حوض ‌البدن)) الحديث أورده ابن الجوزي أيضاً في كتاب "لقط النافع". شبه ﷺ المعدة بالحوض، والبدن بالشجر، والعروق الواردة إليها بعروق الشجر الضاربة إلى الحوض، الجاذبة ماءه إلى الأغصان والأوراق، فمتى كان الماء صافياً ولم يكن ملحاً أجاجاً، كان سبباً لنضارة الأشجار وخصارتها، وإلا كان سبباً لذبولها وجفافها. فكذا حكم البدن مع المعدة، وذلك أن الله تعالى بلطيف حكمته وبديع فطرته، جعل الحرارة الغريزية في بدن الإنسان مسلطة عليه، تحلل الرطوبات تسليط السراج على السليط. وخلق فيه أيضاً قوة جاذبة سارية في مجاري عروق واردة إلى الكبد، طالبة منه ما صفي منه من الأخلاط، التي حصلت فيه بسبب عروق واردة منه إلى المعدة، جاذبة منها ما انهضم فيها من المشروب والمطعوم؛ ليطبخ في الكبد مرة أخرى، فيصير بدلا لما تحلل منه. هذا معنى الصدور بعد الورود؛ لأن العروق مجار لما يرد فيها ويصدر منها كعروق الشجر. فالأسلوب من باب "سال الوادي، وجرى الميزاب". فإذا كان ما في المعدة غذاء صالحا، وانحدر من تلك العروق إلى الكبد، يحصل منه الغذاء المحمود للأعضاء ،خلفا لما تحلل منها وإذا كان فاسداً إما لكثرة أكل وشرب أو إدخال طعام أو غير ذلك، كان سبباً لتوليد الأخلاط الرديئة الموجبة للأمراض الرديئة، وذلك بتقدير العزيز العليم.

*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لأبي الحسن علي بن (سلطان) محمد، نور الدين الملا الهروي القاري (ت 1014ه)، (کتاب الطب والرقی، 2886/7، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان):*
والأظهر: حمله على "الطب النبوي" بأن يقال: أنّ أفعال الرجل وأقواله وآدابه على حسب مراعاة طعامه وشرابه، فإن دخل الحرام خرج الحلال، وإن دخل الفضول خرج المفضول من كل أصول وفصول وكان الطعام بذر الأفعال والأفعال، بمنزلة نبت يبدو منه في الحال، ويقرب منه ما قيل: كل إناء يترشح بما فيه، وقد قال تعالى: {كلوا من الطيبات واعملوا صالحا} [المؤمنون: 51] ، وقال ﷺ «من نبت لحمه من سحت فالنار أولى به» ". رواه الطبراني، والحديث ذكره الإمام في "الإحياء"، وقال العراقي في "تخريجه": رواه الطبراني في "الأوسط"، والعقيلي في الضعفاء وقال: باطل لا أصل له اه. ولعل البطلان بالنسبة إلى مسند العقيلي، وإلا فمع تعدد الطرق وتقويته برواية الطبراني والبيهقي -على ما سيأتي-، وابن الجوزي على ما تقدم، يكون حسنا أو ضعيفا، ولا يصح أن يقال في حقه: أنه باطل لا أصل له.

والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees