سوال:
محترم مفتی صاحب،درجِ ذیل روایت کا درست مصداق بتادیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دوزخمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ انہیں میں نے نہیں دیکھا: ایک قسم تو اس قوم کے لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس گایوں کی دموں کی طرح کوڑے ہونگے، اور وہ لوگوں کو ان کوڑوں سے ماریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی، دوسرے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی مائل ہوں گی، ان کے سربختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ایک طرف کو جھکے ہوئے ہوں گے، اور یہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے آتی ہوگی"۔
کیا ہر طرح کا جوڑا باندھنا غلط ہے؟ براہِ کرم حدیث کا اصل مصداق بتادیں۔
جواب: واضح رہے کہ خواتین کے لیے اس انداز میں بالوں کا جوڑا بنانا کہ تمام بال سمیٹ کر سر کے بالائی حصے پر باندھ دیے جائیں، نماز کے دوران بھی اور عام حالات میں بھی درست نہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں اس طرزِ عمل سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے، اور مذکورہ روایت میں بیان کردہ وعید کا تعلق بھی اسی صورت سے ہے۔
البتہ اگر بالوں کو گدی کے قریب جمع کرکے جوڑا بنایا جائے تو اس کی اجازت ہے، بلکہ نماز کے وقت اس انداز سے جوڑا باندھنا عورتوں کےلیے افضل قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں پردے اور ستر کی رعایت زیادہ آسانی سے ہوسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔
*الدلائل* :
*صحيح مسلم، لمسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري (206 - 261 ه)، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي [ت 1388 ه]،باب النساء الکاسیات العاریات، المائلات الممیلات، 1680/3، الناشر: مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)*
عن أبي هريرة-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"صنفان من أهل النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس. ونساء كاسيات عاريات، مميلات مائلات، رؤسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها. وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا).
*شرح النووي علی صحیح مسلم، لأبي زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (ت 676ه)، باب النهي عن التزوير في اللباس وغيره والتشبع مما لم يعطو 110/14، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت):*
قوله ﷺ: "صنفان من أهل النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر، يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة، لايدخلن الجنة ولايجدن ريحها، وإنّ ريحها توجد من مسيرة كذا وكذا"۔ هذا الحديث من معجزات النبوة۔ فقد وقع هذان الصنفان وهما موجودان، وفيه ذم هذين الصنفين۔ قيل: معناه "كاسيات من نعمة الله عاريات من شكرها"۔ وقيل: معناه "تستر بعض بدنها وتكشف بعضه إظهارا بحالها ونحوه، وقيل: معناه "تلبس ثوبا رقيقا يصف لون بدنها". وأما مائلات، فقيل: معناه "عن طاعة الله وما يلزمهن حفظه"، "مميلات"، أي: يعلمن غيرهن فعلهن المذموم. وقيل: مائلات يمشين متبخترات، مميلات لأكتافهن. وقيل: مائلات يمشطن المشطة المائلة، وهي مشطة البغايا، مميلات يمشطن غيرهن تلك المشطة. ومعنى رؤوسهن كأسنمة البخت: أن يكبرنها ويعظمنها بلفّ عمامة أو عصابة أونحوها۔
*الميسر في شرح مصابيح السنة، لأبي عبد الله فضل الله بن حسن، شهاب الدين التُّورِبِشْتِي (ت 661 ه)، (باب الدیات، 823/3، المحقق: د. عبد الحميد هنداوي، الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز):*
قلت(فضل الله التوربشتي): ويحتمل أن يكون المعنى في المائلات: اللاتي يملن إلى الفجور۔ وفي المُميلات إليه: من يرغب فيهن من الرجال.
وفيه "رءوسهن كأسنمة البخت المائلة" قيل: أراد أنهن يعظمن رءوسهن بالخُمر والعمائم، حتى يشبه أسنمة البخت. ويحتمل أنه أراد بذلك عظمها وميلها من السمن.
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 1/ 405، کتاب الصلوة، باب شروط الصلوة، ط: سعید):*
" (وللحرة) ولو خنثى: (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح.
(قوله: النازل) أي: عن الرأس، بأن جاوز الأذن، وقيّد به إذا لا خلاف فيما على الرأس"۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی