resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کیا وضو کے بچے ہوئے پانی میں بیماریوں سے شفاء ہے؟

(37700-No)

سوال: السلام علیکم ، حضرت! یہ پوچھنا ہے کہ وضو کے بعد تین گھونٹ پانی پینے سے بیماریوں کا ختم ہونا کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: واضح رہے کہ وضو کے بچے ہوئے پانی کا پینا متعدّد مستند احادیث سے ثابت ہے، چنانچہ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے: حضرت ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی الله عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلّی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا، پھر کہا: میں نے چاہا کہ تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا وضو کیسے ہوتا تھا۔ (ترمذی، حدیث نمبر: 48)
اسی وجہ سے فقہاء کرام نے وضو کے بچے ہوئے پانی کو پینا وضو کے آداب میں شمار کیا ہے، بلکہ ایک روایت کے مطابق وضو کا بچا ہوا پانی پینا باعثِ شفاء بھی ہے۔ (الجامع الكبير،776/3)
تاہم الجامع الکبیر کی اس روایت کی سند پر شدید کلام ہے، البتہ متعدّد اہلِ علم کے تجربہ کی روشنی میں اس کا باعثِ شفاء ہونا منقول ہے، جیسا کہ علّامہ شامی نے اپنے استاد سیّد عبد الغنی نابلسی کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "جب کبھی مجھے بیماری ہوئی تو میں نے وضو کا بچا ہوا پانی شفاء کے ارادے سے پیا تو مجھے شفاء ہوئی۔"
البتہ اس پانی کو تین گھونٹ میں پینے سے شفاء حاصل ہونے کا ذکر کسی صحیح حدیث سے نہیں مل سکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

سنن الترمذي: (باب في وضوء النبي صلى الله عليه وسلم كيف كان؟ رقم الحدیث: 48، ط: دار الغرب الإسلامي)
عن أبي حية، قال: «رأيت» عليا توضأ فغسل كفيه حتى أنقاهما، ثم مضمض ثلاثا، واستنشق ثلاثا، وغسل وجهه ثلاثا، وذراعيه ثلاثا، ومسح برأسه مرة، ثم غسل قدميه إلى الكعبين، ثم قام فأخذ ‌فضل ‌طهوره فشربه وهو قائم، ثم قال: أحببت أن أريكم كيف كان طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم.

جمع الجوامع المعروف ب «الجامع الكبير»، لجلال الدين السيوطي (849 - 911 ه)، (باب "أل مع الشین"، 776/3، المحقق: مختار إبراهيم الهائج - عبد الحميد محمد ندا - حسن عيسى عبد الظاهر، الناشر: الأزهر الشريف، القاهرة - جمهورية مصر العربية):
"الشرب من فضل وضوء المؤمن فيه شفاء من ‌سبعين ‌داء، أدناها الهم".
الديلمى عن أبي أمامة، وعبد الله بن بسر، وفيه محمد بن إسحاق العكاشى: كذاب.

الدر المختار مع رد المحتار: (1/ 129، ط: دار الفکر)
(وأن يشرب بعده من ‌فضل ‌وضوئه) كماء زمزم (مستقبل القبلة قائما) أو قاعدا

رد المحتار: (1/ 130، ط: دار الفکر)
وفيه حديث « إن فيه شفاء من سبعين داء أدناها البهر » لكن ‌قال ‌الحفاظ: إنه واه اه ملخصا والبهر بالضم فسره في الخلاصة بتتابع النفس، وفي القاموس إنه انقطاع النفس من الإعياء... والحاصل أن انتفاء الكراهة في الشرب قائم في هذين الموضوعين محل كلام فضلا عن استحباب القيام فيهما، ولعل الأوجه عدم الكراهة إن لم نقل بالاستحباب لأن ماء زمزم شفاء وكذا فضل الوضوء.
وفي شرح هدية ابن العماد لسيدي عبد الغني النابلسي: ومما جربته أني إذا أصابني مرض أقصد الاستشفاء بشرب فضل الوضوء فيحصل لي الشفاء ، وهذا دأبي اعتمادا على قول الصادق صلى الله عليه وسلم في هذا الطب النبوي الصحيح

المحيط البرهاني: (1/ 49، ط: دار الکتب العلمیة)
ومن الأدب: أن يشرب ‌فضل ‌وضوئه أو بعضه مستقبل القبلة إن شاء قائما، وإن شاء قاعدا، هكذا ذكره شمس الأئمة الحلواني رحمه الله. وذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زادة رحمه الله أنه يشرب ذلك قائما قال: ولا يشرب الماء قائما، إلا في موضعين أحدهما: هذا، والثاني: عند زمزم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees