عنوان: حالتِ حیض میں مکہ مکرمہ میں جانے کی نیت کے بغیر محض حدودِ حرم سے گزرنے کی وجہ سے دم لازم ہونے کا حکم (15918-No)

سوال: ایک عورت اپنی فیملی کے ساتھ ریاض سے مدینہ گئی، وہاں تین دن رہی پھر اس عورت کو عذر شرعی لاحق ہوگیا تو اس نے احرام نہیں باندھا، باقی فیملی نے مدینہ سے احرام باندھا اور جدہ چلے گئے، پھر فیملی نے جدہ سے مکہ جا کر عمرہ کرلیا اور جدہ واپس آگئے، پھر اگلے دن طائف کی طرف چلے تو وہاں جو ایک راستہ غیر مسلمین کا ہے، اس طرف نہیں مڑے کہ اگلے کٹ سے مڑ جائیں گے تو اس راستہ پے حد حرم کا بورڈ آگیا، اس میں داخل ہوتے ہی غیر مسلموں کے راستہ پے چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس عورت پر دم آئے گا جو عذر شرعی کی حالت میں ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔
تنقیح: محترم اس بات کی وضاحت کردیں کہ مذکورہ عورت مدینہ سے مکہ مکرمہ جانا چاہتی تھی یا صرف جدہ کے ارادہ سے مدینہ سے روانہ ہوئی تھی؟ اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔
جواب تنقیح: صرف جده جانے کا ارادہ تھا۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ عورت پر دم لازم نہیں ہوگا، کیونکہ حدودِ حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی وجہ سے دم اس شخص پر لازم ہوتا ہے، جس کا ارادہ مکہ مکرمہ میں جانے کا ہو، جبکہ مذکورہ عورت مکہ مکرمہ جانے کے ارادہ سے حدودِ حرم میں داخل نہیں ہوئی ہے، بلکہ صرف ایک راستہ کی طرف جانے کے لیے حدودِ حرم سے گزری ہے، لہذا مکہ مکرمہ میں جانے کی نیت کے بغیر محض حرم کی حدود سے گزرنے کی وجہ سے اس پر دم لازم نہیں ہوگا۔
نیز مذکورہ عورت کی فیملی کے لوگ جس وقت مدینہ سے عمرہ کا احرام باندھ کر جدہ سے ہوتے ہوئے مکہ کی طرف آرہے تھے تو اس وقت بھی چونکہ اس عورت نے نہ عمرہ کا احرام باندھا تھا اور نہ ہی مکہ مکرمہ کے ارادے سے نکلی تھی، بلکہ جدہ کے ارادے سے وہاں سے روانہ ہوگئی تھی، لہذا صرف جدہ آنے کی وجہ سے بھی اس پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

بدائع الصنائع: (166/2، ط: دار الكتب العلمية )
فإن أحرم بحجة الإسلام جاز عن الدخول الثاني إذا كان في سنته، ولم يجز عن الدخول الأول؛ لأن الواجب قبل الدخول الثاني صار دينا، فلا يسقط إلا بتعيين النية، هذا إذا جاوز أحد هذه المواقيت الخمسة يريد الحج أو العمرة أو دخول مكة أو الحرم بغير إحرام، فأما إذا لم يرد ذلك، وإنما أراد أن يأتي بستان بني عامر أو غيره لحاجة فلا شيء عليه؛ لأن لزوم الحج أو العمرة بالمجاوزة من غير إحرام لحرمة الميقات تعظيما للبقعة وتمييزا لها من بين سائر البقاع في الشرف والفضيلة، فيصير ملتزما للإحرام منه، فإذا لم يرد البيت لم يصر ملتزما للإحرام فلا يلزمه شيء، فإن حصل في البستان أو ما وراءه من الحل ثم بدا له أن يدخل مكة لحاجة من غير إحرام، فله ذلك؛ لأنه بوصوله إلى أهل البستان صار كواحد من أهل البستان.

آپ کے مسائل اور ان کا حل: (322/5، ط: مکتبہ لدھیانوی)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 69 May 10, 2024
halat e haiz heiz mein makka mukarrama mein jane ki niat niyat ke baghair mehez hudode haram se guzarne ki waja se dam lazim hone ka hokom hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.