عنوان: عشر اصل اور کل پیداوار پر واجب ہے، کسی قسم کے اخراجات منہا نہیں کئے جائیں گے (16954-No)

سوال: مفتی صاحب! 90 من گندم ہوئی ہے، تھریشر سے جو گندم نکالتے ہیں، انہوں نے اس میں سے دس من گندم لی ہے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ دس من گندم نکال کر 80 من گندم کا عشر دیں یا 90 من کا دینا ہوگا؟
دوسرا ہم نے نویں حصے پر بندہ رکھا ہوا ہے، اس کو بھی حصہ دینا ہے، جو اس کا حصہ (تقریباً 9 من) بنتا ہے، اس کا حصہ نکال کر عشر دینا ہو گا یا 90 من کا دینا ہو گا؟ رہنمائی فرمائیں
تنقیح: محترم اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ تھریشر والے دس من گندم کیوں لیتے ہیں؟ اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔ جزاک اللہ خیرا
جواب تنقیح: تریشر والے گندم نکالتے ہیں تو اپنی مزدوری گندم سے لیتے ہیں، جب ہم گندم کاٹتے ہیں اس کے بعد جو گندم کو مشین کے ذریعے سے گندم کا دانے نکالتے ہیں، اس کی مزدوری من کے حساب سے لیتے ہیں۔

جواب: واضح رہے کہ جس زمین کو پورے سال یا سال کے اکثر حصے میں قدرتی آبی وسائل یعنی بارش، دریا اور نہر وغیرہ کے ذریعے سیراب کیا گیا ہو، اس کی پیداوار پر عشر واجب ہے اور عشر کل پیداوار پر واجب ہوتا ہے، چاہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں 90 من گندم کے حساب سے ہی عشر ادا کرنا واجب ہے، اس میں سے مزدور کی اجرت یا دیگر اخراجات منہا نہیں کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ میں تھریشر سے گندم نکالنے والے کی اجرت اسی تھریشر سے نکلی ہوئی گندم میں سے دینے کی شرط لگانا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ شرعی اصول کے مطابق مزدور کو اجرت میں وہ چیز دینا جو خود اس مزدور کے عمل سے وجود میں آئی ہو (قفیز الطحان کے قبیل سے ہے جو کہ) جائز نہیں ہے، البتہ اس کے بجائے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ اجرت اسی تھریشر سے نکلنے والی گندم سے مشروط نہ کی جائے، بلکہ سادہ انداز میں تھریشر والے سے یہ کہا جائے کہ آپ کو اس گندم کی صفائی کے بدلے بطور اجرت کے اتنی مقدار میں گندم دی جائے گی (یعنی یہ نہ کہا جائے کہ اس تھریشر سے جو گندم نکلے گی اس میں سے دی جائے گی) اس طرح بعد میں اسے کسی اور جگہ سے بھی گندم دی جاسکتی ہے اور اسی تھریشر میں سے نکلی ہوئی گندم بھی دی جاسکتی ہے، نیز باہمی اتفاق سے اس کی رقم بھی دی جاسکتی ہے۔ (مستفاد از تبویب جامعہ دار العلوم کراچی، فتوی نمبر: 1280/8)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (1/187، ط: رشيدية)
ولا تحسب أجرة العمال ونفقة البقر، وكري الأنهار، وأجرة الحافظ وغير ذلك فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا كذا في البحر الرائق.، ولا يأكل شيئا من طعام العشر حتى يؤدي عشره كذا في الظهيرية.

وفيها: (444/4، ط: رشيدية)
’صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثوراً ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنساناً ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد، والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزاً من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة، أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد؛ لأن الدقيق إذا لم يكن مضافاً إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشاراً إليه يجوز أن يكون ديناً في الذمة، ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط‘‘.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 112 May 16, 2024
ushar asal or kul paidawar par wajib hai,kisi kisam qisam ke ikhrajat minha nahi kiye jain ge

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.