عنوان: علم الاعداد کے ذریعے نام رکھنے کا شرعی حکم(100174-No)

سوال: مفتی صاحب ! علم الاعداد کے بارے میں ہمارے علماء کرام کیا فرماتے ہیں؟ کیا نام رکھنے میں علم الاعداد کا لحاظ رکھنا ضروری ہے یا اس سے کوئی اثر پڑتا ہے نام رکھنے پر؟

جواب: واضح رہے کہ علم الاعداد میں نام کے اعداد کی تأثیرات کے نظریہ پر ایمان رکھنا اور ان چیزوں کو موٴثر حقیقی سمجھنا کفر ہے،
قرآن و سنت میں علم الاعداد پر اعتماد کرنے کی اجازت نہیں، لہٰذا یہ طریقہ غلط ہے۔ نام رکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے حسنیٰ کی طرف نسبت کرکے نام رکھے جائیں، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اپنے بزرگوں کے ناموں پر نام رکھے جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

وحراما، وهو علم الفلسفة والشعبذة والتنجيم والرمل وعلوم الطبائعيين والسحر والكهانة۔۔۔ومن هذا القسم علم الحرف

(ج: 1، ص: 43، ط: دار الفکر)

وفی حجۃ اللّٰه البالغۃ:

وكل حديث فيه نهي عن الرقى والتمائم والتولة محمولة على ما فيه شرك أو انهماك في التسبب بحيث يغفل عن البارى جل شأنه.

(ج: 2، ص: 300، ط: دار الجیل)

وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:

الأصل جواز التسمية بأي اسم إلا ما ورد النهي عنه۔۔وتستحب التسمية بكل اسم معبد مضاف إلى الله سبحانه وتعالى، أو إلى أي اسم من الأسماء الخاصة به سبحانه وتعالى؛ لأن الفقهاء اتفقوا على استحسان التسمية به. وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن. وقال سعيد بن المسيب: أحبها إلى الله أسماء الأنبياء.

(ج: 11، ص: 311، ط: دار السلاسل

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 529
ilmul aadaad ke zaryey naam rakhna/ilmul adaad ke / key zariye nam rakhne ka shari hukum, علم الاعداد name anyone by

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com