عنوان: "یارسول الله انظر حالنا یا حبیب الله اسمع قالنا" اشعار پڑھنے کا حکم(101775-No)

سوال: مفتی صاحب ! یارسول اللہ انظر حالنا الخ یہ شعر پڑھ سکتے ہیں؟ اس میں کوئی شرکیہ الفاظ تو نہیں ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ ان اشعار میں جناب رسول اللہ صلی الله عليه وسلم سے مخاطب ہوکر شاعر نے اپنے جذباتِ عقیدت کا اظہار کیا ہے اور غلبہ حال کی وجہ سے ان اشعار میں بعض باتیں ایسی آگئی ہیں، جن سے بظاہر شرکیہ مفہوم نکلتا ہے، گو کہ اس کی تاویل کی جاسکتی ہے، لیکن جہاں شرک سے بچنے کا حکم ہے، وہیں ایسے الفاظ سے بھی اجتناب کرنے کا حکم ہے، جن سے شرک کا وہم اور شائبہ ہوتا ہو، لہذا ان اشعار کے پڑھنے سے عام حالات میں اجتناب کرنا چاہیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

(و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر، وعزاه في الأشباه إلى الصغرى. وفي الدرر وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر وواحد يمنعه فعلى المفتي الميل لما يمنعه، ثم لو نيته ذلك فمسلم وإلا لم ينفعه حمل المفتي على خلافه

(ج: 4، ص: 229، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 1112

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.