عنوان: گستاخ رسول کی سزا(100181-No)

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،حضرت ! یہ فرمائیں کہ اگر کوئی خدا نخواستہ توہین رسالت کا مرتکب ہو اور پھر توبہ کر لے یا غیر مسلم ہونے کی صورت میں معافی مانگ لے تو اس بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے؟ جزاک اللہ خیر

جواب: اگر کوئی مسلمان گستاخی رسول کرے اور مقدمہ فوج داری قائم ہونے اور گرفتاری سے پہلے سچے دل سے توبہ کرلے تو حنفی مسلک کے مطابق اس کی توبہ قبول ہے اور گرفتاری کے بعد اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی ۔

اور اگر کوئی ذمی معاہد گستاخی کرنے کے بعد سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ کے نزدیک اس کا گناہ معاف ہوسکتا ہے، جہاں تک دنیاوی احکام کا تعلق ہے تو حضرات احناف کے نزدیک اس صورت میں تعزیر ہے اور حاکم کو اختیار حاصل ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے مرتکب کو سیاستا و تعزیرا قتل کرنے کا حکم جاری کرے۔

واضح رہے کہ آج کل کے زمانہ میں حرمتِ رسول علیہ السلام پر غیر مسلموں کی طرف سے مختلف طریقوں سے حملے جاری ہیں، حاکم وقت کی ذمہ داری ہے کہ گستاخِ رسول کو ایسی سزا دے، جس سے دوسروں کو عبرت ہو، اگرچہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معافی مانگ لے، کیونکہ یہ معاملہ عصمت انبیاء علیہم السلام کا معاملہ ہے اور حاکم یا عدالت اس وقت ان کی طرف سے نائب ہے، اگر گستاخ رسول کو بغیر سزا کے چهوڑ دیا گیا تو آئندہ اوروں کو بهی اس قبیح جرم کے ارتکاب کی جرأت ہوگی۔

نیز واضح رہے کہ اگر ملکی قانون کے مطابق اس جرم پر علی الإطلاق قتل کی سزا مقرر کردی گئی ہو تو چونکہ شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ رحمهم الله تعالى کے نزدیک ذمی گستاخ کی سزا قتل ہے اور اس کی توبہ اسلام لانے سے پہلے مقبول نہیں اور احناف کے نزدیک حکم حاکم رافع خلاف(حاکم کا حکم اختلاف کو ختم کرنے والا) ہے، لہذا عدالت ملکی قوانین اور ائمہ ثلاثہ کے مطابق اسی تعزیری سزا(قتل) کو نافذ کرنے کی پابند ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (234/4، ط: دار الفکر)
ولفظ النتف من سب الرسول - صلى الله عليه وسلم - فإنه مرتد وحكمه حكم المرتد ويفعل به ما يفعل بالمرتد انتهى۔۔۔۔فبعد أخذه لا تقبل توبته اتفاقا فيقتل، وقبله اختلف في قبول توبته، فعند أبي حنيفة تقبل فلا يقتل

و فیہ ایضاً: (214/4، ط: دار الفکر)
(ويؤدب الذمي ويعاقب على سبه دين الإسلام أو القرآن أو النبي) - صلى الله عليه وسلم - حاوي وغيره قال العيني: واختياري في السب أن يقتل. اه.
ورأيت في كتاب الصارم المسلول لشيخ الإسلام ابن تيمية الحنبلي ما نصه: وأما أبو حنيفة وأصحابه فقالوا: لا ينتقض العهد بالسب، ولا يقتل الذمي بذلك لكن يعزر على إظهار ذلك۔۔۔۔۔وكان حاصله: أن له أن يعزر بالقتل في الجرائم التي تعظمت بالتكرار، وشرع القتل في جنسها؛ ولهذا أفتى أكثرهم بقتل من أكثر من سب النبي - صلى الله عليه وسلم - من أهل الذمة وإن أسلم بعد أخذه، وقالوا يقتل سياسة

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 560
gustakh rasool ki saza/gustaakh e rasool ki saza, Punishment of the blasphemy prophet

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.