عنوان: حالتِ احرام میں ٹوتھ پیسٹ (Tooth paste) استعمال کرنے کا حکم (18103-No)

سوال: میں ابھی حج سے واپسی آئی ہوں، میں نے احرام کی حالت میں غلطی سے بے دھیانی میں ٹوتھ پیسٹ کرلی تھی جو منٹ فلیور والی تھی، اس میں کوشبو زیادہ تیز نہیں تھی، اب میں بہت پریشان ہوں کہ کیا کروں؟ برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ کہیں مجھ پر دم تو واجب نہیں ہوگیا ہے؟ اور اگر واجب ہوگیا ہے تو اب اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی، جبکہ میں اپنے ملک آگئی ہوں؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ ٹوتھ پیسٹ (Tooth paste) میں خوشبو کی مقدار مغلوب اور کم تھی تو احرام کی حالت میں اس کا استعمال اگرچہ مکروہ تھا، لیکن اس کی وجہ سے دم لازم نہیں ہوا ہے، اور اگر خوشبو کی مقدار غالب تھی تو احرام کی حالت میں اس کے استعمال کی وجہ سے دم لازم ہوگیا ہے جو کہ حدود حرم میں دینا ضروری ہے، البتہ اس صورت میں آپ کے لیے خود حدودِ حرم میں جا کر دم دینا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر وہاں کوئی جاننے والا ہو یا آپ کے ہاں سے کوئی عمرہ کے لیے جانے والا ہو تو اس کو اپنا وکیل بنا دیں، وہ بھی آپ کی طرف سے حدودِ حرم میں دم کے طور پر جانور ذبح کرسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

ارشاد الساري الى مناسك الملا علي القاري: (ص: 443، ط: المكتبة الإمدادية)

( لواكل طيباكثيرا وهو ) اى الأكل الكثير ( ان يلتصق ) أي يلتزق ( باكثرفمه ) أي على ماقاله غيرواحدمن المشائخ ( يجب الدم ) أي عندأبي حنيفة ( وان كان ) أي الماكول أو المشروب ( قليلابان لم يلتصق باكثرفمه ) أي بأن كان من الأكثر ( فعليه الصدقة ) أي عنده وأما عندأبي يوسف ومحمد لايجب شىء بأكل الطيب قل أوكثر......ثم ظاهر المذهب أن الماد من الصدقة نصف صاع وقال في المجمع: وفي قلبه صدقة بقدره.........( هذا ) ماذكرناه كله ( إذا أكله ) أي الطيب(كماهو)أي من غيرخلط وطبخ له ( أماأذاخلطه بطعام قدطبخ ) كالزعفران والأفاويه من الدارصيني وغيره ( فلاشىءعليه ) إتفاقا (سواء مسته النارأولا...وسواء يوجد ريحه أولا )

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 73 Jul 08, 2024

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.