عنوان: زکوة اورقربانی کے نصاب میں فرق اور ضرورتِ اصلیہ سے کیا مراد ہے؟(101880-No)

سوال: کیا فریج، کپڑے اور بائیک حاجت اصلیہ میں شامل نہیں ہیں یا قربانی اور زکوۃ کا نصاب الگ الگ ہے؟ اگر ایک شخص کے پاس فریج اور تین کپڑوں سے زائد جوڑے ہوں اور باقی نقد رقم نہ ہو، تو اسپر قربانی لازم ہوگی یا نہیں؟

جواب:  ضرورتِ اصلیہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے گزر بسر کے لیے ان کا استعمال ہو رہا ہو، جیسے رہائشی گھر، استعمالی کپڑے اور سواریاں وغیرہ۔
انسان کی بنیادی اور اصلی ضروریات کا دائرہ کیاہے؟
فقہائے کرام کی عبارات میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ضروریات و حاجات اصلیہ کو حتمی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا ہے،کیونکہ ضرورت اور حاجت کی تعیین میں علاقہ مقام، احوال زمانہ، لوگوں کی قوت برداشت وغیرہ کے لحاظ سے فرق واقع ہوسکتا ہے، اگرکبھی دو چادریں، ایک خیمہ یا جھونپڑی اور گدھا، گھوڑا وغیرہ ضروریاتِ زندگی متصور ہوتے تھے تو اب ان کی جگہ سلے ہوئے کپڑوں کے جوڑے، پختہ تعمیر شدہ مکان اور موٹر گاڑیاں اشیائے ضرورت بلکہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ اور پھر ہر انسان کی اشیائے ضرورت دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں،لہذا ضروریات اصلیہ کی تعین ہر زمانہ،علاقہ اور افراد کے حالات کی روشنی میں ہوگی، لہذا فریج، پہننے کے کپڑے اور موٹرسائیکل ضرورت اصلیہ میں داخل ہیں۔

زکوة اور قربانی کے نصاب میں فرق:
واضح رہے کہ قربانی اور زکوة کے نصاب میں صرف فرق یہ ہے۔
ضرورت سے زائد سامان، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، تو قربانی واجب ہوگی، زکوة واجب نہیں ہوگی۔
لہذا جس شخص کے پاس ضرورت سے زائد سامان ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔
لہذا اگر کسی کے پاس صرف فریج اور تین کپڑوں سے زائد استعمال کے کپڑے ہوں، اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھندیة: (229/5، ط: دار الفکر)
(وَأَمَّا) (شَرَائِطُ الْوُجُوبِ) : مِنْهَا الْيَسَارُ وَهُوَ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ دُونَ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبُ الزَّكَاةِ، 

رد المحتار: (262/2، ط: سعید)
(قَوْلُهُ: وَفَارِغٍ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ) أَشَارَ إلَى أَنَّهُ مَعْطُوفٌ عَلَى قَوْلِهِ عَنْ دَيْنٍ (قَوْلُهُ وَفَسَّرَهُ ابْنُ مَلَكٍ) أَيْ فَسَّرَ الْمَشْغُولَ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ وَالْأَوْلَى فَسَّرَهَا، وَذَلِكَ حَيْثُ قَالَ: وَهِيَ مَا يَدْفَعُ الْهَلَاكَ عَنْ الْإِنْسَانِ تَحْقِيقًا كَالنَّفَقَةِ وَدُورِ السُّكْنَى وَآلَاتِ الْحَرْبِ وَالثِّيَابِ الْمُحْتَاجِ إلَيْهَا لِدَفْعِ الْحَرِّ أَوْ الْبَرْدِ أَوْ تَقْدِيرًا كَالدَّيْنِ، فَإِنَّ الْمَدْيُونَ مُحْتَاجٌ إلَى قَضَائِهِ بِمَا فِي يَدِهِ مِنْ النِّصَابِ دَفْعًا عَنْ نَفْسِهِ الْحَبْسَ الَّذِي هُوَ كَالْهَلَاكِ وَكَآلَاتِ الْحِرْفَةِ وَأَثَاثِ الْمَنْزِلِ وَدَوَابِّ الرُّكُوبِ وَكُتُبِ الْعِلْمِ لِأَهْلِهَا فَإِنَّ الْجَهْلَ عِنْدَهُمْ كَالْهَلَاک۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1658
zaakt or qurbani kay nisab mai farq or zaroorat e asliya say kia murad hai?, What is meant by the difference between the syllabus of Zakat and Qurbani and What is meant by the basic need?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.