عنوان: نظر لگ جانے کی وجہ سے نماز نہ پڑھنا(101947-No)

سوال: السلام عليكم، میرا ایک سوال ہے، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ نماز پڑھنے والے کو نظر لگے اور وہ اس نظر لگنے سے نماز پڑھنا چھوڑ دے، کیا اِس پر اسکی اپنی پکڑ بھی ہوگی ؟ یا اسی طرح ایک بچہ جو حفظ کر رہا ہو، اور نظر لگنے کی وجہ سے وہ حفظ کرنا چھوڑ دے؟

جواب: ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط اور بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہیں، انہی میں سے ایک عقیدہ '' نظر بد کا لگنا '' بھی ہے۔ نظر بد کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین تو رکھتے ہیں،لیکن اس کے علاج میں کسی حد کی پرواہ نہیں کرتے ہیں،اور شرک کے مرتکب ٹھہرتے ہیں، نظر بد کا لگنا حق ہے اور اس کا غیر شرکیہ علاج جائز ہے۔
جناب نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ۔۔۔۔۔(صحیح مُسلم حدیث :5831)
ترجمہ :
نظر بد لگنا حق ہے اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی،
لیکن یہ کہنا کہ نظر لگی ہے، اس لیے نماز نہیں پڑھی جاتی، یہ بات درست نہیں ہے، اسی طرح بچے کادل پڑھائی میں نہیں لگ رہا، اس کی وجہ تلاش کی جائے، یہ کہنا کہ نظر لگ گئی ہے، اس وجہ سے نہیں پڑھ رہا، یہ درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی صحیح مسلم:

عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «العين حق، ولو كان شيء سابق القدر سبقته العين

(ج: 4، ص: 1719، ط: دار احیاء التراث العربی)

وفی حجۃ اللّٰه البالغۃ:

وأما الرقي فحقيقتها التمسك بكلمات لها تحقق في المثل وأثر، والقواعد الملية لا تدفعها ما لم يكن فيها شرك لا سيما إذا كان من القرآن أو السنة أو مما يشبههما من التضرعات إلى الله. والعين حق وحقيقتها تأثير إلمام نفس العائن وصدمة تحصل من إلمامها بالمعين، وكذا نظرة الجن

(ج: 2، ص: 300، ط: دار الجیل)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 206

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.