عنوان: مقدس اوراق کو کچرے میں ڈالنے کاحکم   (101970-No)

سوال: حضرت ! قرآنی اوراق کے علاوہ جو دنیاوی کام کے لئے لکھی گئی تحاریر میں اللّٰہ اور محمد۔ یا اور دیگر نام لکھے ہوتے ہیں، انکے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: ایسے کاغذات کو تلف کرنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ دریا میں یا کسی غیرآباد کنویں میں ڈال دیا جائے، یا زمین میں دفن کردیا جائے، اور بصورت مجبوری ان کو جلاکر راکھ پانی میں ملاکر کسی پاک جگہ پر، جہاں پاؤں نہ پڑتے ہوں، ڈال دیا جائے۔

لمافی الھندیة:
اﻟﻤﺼﺤﻒ ﺇﺫا ﺻﺎﺭ ﺧﻠﻘﺎ ﻻ ﻳﻘﺮﺃ ﻣﻨﻪ ﻭﻳﺨﺎﻑ ﺃﻥ ﻳﻀﻴﻊ ﻳﺠﻌﻞ ﻓﻲ ﺧﺮﻗﺔ ﻃﺎﻫﺮﺓ ﻭﻳﺪﻓﻦ، ﻭﺩﻓﻨﻪ ﺃﻭﻟﻰ ﻣﻦ ﻭﺿﻌﻪ ﻣﻮﺿﻌﺎ ﻳﺨﺎﻑ ﺃﻥ ﻳﻘﻊ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﺃﻭ ﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ ﻭﻳﻠﺤﺪ ﻟﻪ؛ ﻷﻧﻪ ﻟﻮ ﺷﻖ ﻭﺩﻓﻦ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ ﺇﻫﺎﻟﺔ اﻟﺘﺮاﺏ ﻋﻠﻴﻪ، ﻭﻓﻲ ﺫﻟﻚ ﻧﻮﻉ ﺗﺤﻘﻴﺮ ﺇﻻ ﺇﺫا ﺟﻌﻞ ﻓﻮﻗﻪ ﺳﻘﻒ ﺑﺤﻴﺚ ﻻ ﻳﺼﻞ اﻟﺘﺮاﺏ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻬﻮ ﺣﺴﻦ ﺃﻳﻀﺎ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻐﺮاﺋﺐ.
اﻟﻤﺼﺤﻒ ﺇﺫا ﺻﺎﺭ ﺧﻠﻘﺎ ﻭﺗﻌﺬﺭﺕ اﻟﻘﺮاءﺓ ﻣﻨﻪ ﻻ ﻳﺤﺮﻕ ﺑﺎﻟﻨﺎﺭ، ﺃﺷﺎﺭ اﻟﺸﻴﺒﺎﻧﻲ ﺇﻟﻰ ﻫﺬا ﻓﻲ اﻟﺴﻴﺮ اﻟﻜﺒﻴﺮ ﻭﺑﻪ ﻧﺄﺧﺬ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺬﺧﻴﺮﺓ.(ج: 5، ص: 323، ط: دارالفکر )

دیگر متفرقات میں مزید فتاوی

24 Aug 2019
ہفتہ 24 اگست - 22 ذو الحجة 1440

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com