عنوان: بیع سلم کی ایک صورت کا حکم    (102065-No)

سوال: گندم کی اسطرح بیع کرنا کہ ١٠٠٠ روپے من کے اعتبار سے جب گندم تیار ھوجائے تو پھر مجھے سو من گندم دینا، کیا یہ معاملہ درست ھے؟ یا اسی طرح بھوسے کی بیع کرنا کہ ابھی ٣٠٠ روپے من ریٹ کے اعتبار سے ھزار من کے پیسے لے لو، جب کٹائی کا وقت آئے تو بھوسہ دینا یہ درست ھے ؟

جواب:
سوال میں ذکر کردہ معاملے کو شریعت کی اصطلاح میں بیع سلم کہا جاتا ہے، یہ معاملہ درج ذیل شرائط کے ساتھ کرنا جائز ہے۔
١- جنس معلوم ہو( جو چیز خریدی جا رہی ہو اس کی جنس معلوم ہو)
٢- اس مبیع کی نوع معلوم ہو،( یعنی کونسی قسم ہے؟ )
٣- اس مبیع کی صفت( کوالٹی) معلوم ہو۔
۴- اس مبیع کی مقدار معلوم ہو۔
۵- معاملے کی مدت معلوم ہو۔
۶- جو پیسے پیشگی ادا کیے جارہے ہیں، ان کی مقدار معلوم ہو۔
٧- مبیع کی سپردگی کی جگہ معلوم ہو۔
٨- تمام رقم پیشگی ادا کی جائے اور مقررہ مدت کے بعد بائع اگر مطلوبہ چیز فراہم نہ کرسکے، تو ایسی صورت میں رقم ہی واپس کی جائے گی، اس کے بدلے کوئی اور چیز نہیں دی جائے گی۔

لہذا فریقین کو چاہیے کہ باہمی رضامندی سے ان شرائط کو آپس میں طے کرلیں، تو یہ عقد درست ہو جائے گا ۔



لما فی الشامیۃ:
"السلم بیع آجل وہو المسلم فیہ بعاجل وہو رأس المال، ورکنہ رکن البیع … ویصح فیما أمکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون … وشرطہ: أي شروط صحتہ التي تذکر فی العقد سبعۃ بیان جنس، وبیان نوع وصفتہ وقدرہ وأجل … وبیان قدر رأس المال … والسابع بیان مکان الإیفاء للمسلم فیہ".
(الدرالمختار مع الشامي، کتاب البیوع، باب السلم: ۵/ ۲۰۹-۲۱۵ کراچی)


(مزید سوال و جواب کے لیے وزٹ کریں)
http://AlikhlasOnline.com

تجارت و معاملات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com