سوال:
ایک شخص ایک کروڑ کا پلاٹ خریدنا چاہتا ہے، مگر پچیس لاکھ اس کے پاس کم ہیں، کوئی اور شخص اس کے ساتھ بطور شرکت رقم لگاتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ کچھ مدت بعد میں آپ کو اپنا حصہ بیچ دوں گا، اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق، اور اس وقت تک میں اپنے حصے کا کرایہ وصول کروں گا، کیا یہ صورت صحیح ہے، اور اگر درست نہیں ہے تو متبادل کیا ہوگا؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق مشترکہ طور پر مکان خریدنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والا کرایہ دونوں فریقین میں حسب معاہدہ تقسیم ہوگا۔
نیز کسی ایک فریق کا شرط کی بنیاد پر یہ معاہدہ کرنا کہ میں کچھ مدت کے بعد مکان میں سے اپنا حصہ دوسرے فریق کے ہاتھ فروخت کردونگا، یہ درست نہیں ہے۔
ہاں! اگر وعدہ بیع کے طور پر یہ کہتا ہے کہ میں فروخت کردونگا، تو اس کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (کتاب الشرکۃ، الباب السادس في المتفرقات)
"طاحونۃ مشترکۃ بین اثنین أنفق أحدہما في عمارتہا لم یکن متطوعًا بخلاف ما إذا أنفق علی عبد مشترک أو أدی خراج کرم مشترک حیث یکون متطوعًا کذا في السراجیۃ، دار بین اثنین، غاب أحدہما، وآجرہا الآخر وأخذ الأجرۃ، فللغالب أن یشارکہ في الأجر، کذا في القنیۃ".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی