عنوان: عدت کے دوران ایک فلیٹ سے دوسرے فلیٹ جانا (102166-No)

سوال: السلام علیکم، سوال یہ ہے کہ کیا ایک خاتون شوہر کے انتقال کے بعد عدت کے دوران کسی اور گھر میں وقت گزار سکتی ہیں؟ ان کے شوہر کا گھر تیسرے مالے پر ہے، جبکہ ان کے بیٹے کا گھر کسی اور مالے پر ہے تو کیا وہ ان گھروں کے درمیان نقل و حرکت کر سکتی ہیں؟

جواب: اگر گھر کی سیڑھیاں باہر سے ہوں( جیسا کہ عام طور پر فلیٹوں کی سیڑھیاں باہر سے ہوتی ہیں)، تو پھر عدت کے دوران عورت کا اپنے شوہر کے گھر سے بلاعذر بیٹوں کے گھر جانا جائز نہیں ہے، لیکن اگر سیڑھیاں گھر کے اندر ہی سے ہوں، تو پھر وہ پورا ایک گھر کے حکم میں شمار ہوگا اور اس صورت میں بیٹوں کے گھر جانا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی بدائع الصنائع:

ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻤﺘﻮﻓﻰ ﻋﻨﻬﺎ ﺯﻭﺟﻬﺎ ﻓﻼ ﺗﺨﺮﺝ ﻟﻴﻼ ﻭﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﺄﻥ ﺗﺨﺮﺝ ﻧﻬﺎﺭا ﻓﻲ ﺣﻮاﺋﺠﻬﺎ؛ ﻷﻧﻬﺎ ﺗﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ اﻟﺨﺮﻭﺝ ﺑﺎﻟﻨﻬﺎﺭ ﻻﻛﺘﺴﺎﺏ ﻣﺎ ﺗﻨﻔﻘﻪ؛ ﻷﻧﻪ ﻻ ﻧﻔﻘﺔ ﻟﻬﺎ ﻣﻦ اﻟﺰﻭﺝ اﻟﻤﺘﻮﻓﻰ ﺑﻞ ﻧﻔﻘﺘﻬﺎ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻓﺘﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ اﻟﺨﺮﻭﺝ ﻟﺘﺤﺼﻴﻞ اﻟﻨﻔﻘﺔ، ﻭﻻ ﺗﺨﺮﺝ ﺑﺎﻟﻠﻴﻞ ﻟﻌﺪﻡ اﻟﺤﺎﺟﺔ ﺇﻟﻰ اﻟﺨﺮﻭﺝ ﺑﺎﻟﻠﻴﻞ۔

(فصل فی احکام العدة، ج: 3 ،ص: 205، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 267

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.