resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عدت کے اندر مختلف اوقات میں تین طلاقیں دینے کی صورت میں عدت کی ابتداء پہلی طلاق سے ہوتی ہے یا آخری طلاق سے؟

(38738-No)

سوال: میرے شوہر نے تین مختلف مواقع پر طلاق دی: ایک مرتبہ جولائی میں، ایک مرتبہ اگست میں اور ایک مرتبہ ستمبر میں، ان طلاقوں کے درمیان کسی بھی وقت رجوع نہیں کیا گیا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان تین مہینوں کے اندر ہی میری عدت پوری ہو چکی ہے یا ستمبر میں دی گئی آخری طلاق کے بعد نئی عدت شروع ہوگی؟

جواب: واضح رہے کہ اگر شوہر بیوی کو مختلف اوقات میں تین طلاقیں دے دے اور درمیان میں رجوع نہ کرے تو عدت کا حساب شرعاً پہلی طلاق سے ہی لگایا جاتا ہے، پہلی طلاق کے بعد مکمل تین حیض (ماہواری) آجانے پر عدت مکمل ہو جاتی ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق آپ کی عدت کی ابتداء پہلی طلاق ( جو جولائی میں دی گئی) کے بعد سے ہوئی اور اس کے بعد تین حیض (ماہواری) مکمل ہوتے ہی آپ کی عدت ختم ہوگئی ہے اور آپ خاوند کے نکاح سے نکل گئی ہیں، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:


حاشية ابن عابدين: (3/ 520،ط: سعید)
(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور۔
قال في الشرنبلالية: قوله: وابتداؤها عقيبهما أي عقيب الطلاق والموت يستثنى منه من بين طلاقها فإن عدتها من وقت البيان لا من وقت قوله إحداكما طالق، وإن مات قبل البيان لزم كلا منهما عدة الوفاة تستكمل فيها ثلاث حيض كما في البزازية. اه.

بدائع الصنائع: (3/ 89،ط:دارالکتب العلمیة)
ثم إذا وقع عليها ثلاث تطليقات في ثلاثة أطهار فقد مضى من عدتها حيضتان إن كانت حرة لأن العدة بالحيض عندنا، وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها وإن كانت أمة فإن وقع عليها تطليقتان في طهرين فقد مضت من عدتها حيضة وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)