سوال:
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض (ماہواری) ہوتی ہے، کیا یہ درست ہے؟ میرا خلع عدالت کے ذریعے ہوا ہے اور شوہر کی اجازت سے ہوا ہے۔
نیز عدت کب سے شروع ہوگی؟ کیا اس دن سے جب شوہر نے اجازت دی، یا اس دن سے جب عدالت نے خلع کا اعلان کیا (درمیان میں رمضان کی وجہ سے وقفہ بھی تھا)؟
جواب: واضح رہے کہ خلع شرعاً طلاق بائن کے حکم میں ہے، اور اس کی عدت بھی طلاق جیسی ہی ہے، یعنی غیر حاملہ خاتون کے لیے تین حیض اور حاملہ کے لیے وضع حمل، جبکہ ایسی خاتون جو حیض آنے سے نامید ہو چکی ہو، اس کی عدت تین ماہ ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے شوہر نے عدالت میں خلع پر رضامندی ظاہر کردی تھی اور خلع کا اختیار قاضی کو دے دیا تھا تو عدالت کی طرف سے خلع کا فیصلہ ہوتے ہی آپ پر طلاق واقع ہوگئی ہے، اس خلع کا فیصلہ ہونے کے وقت سے آپ کی عدت شمار ہوگی جو کہ تین حیض گزرنے کی مدت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (سورۃ البقرہ، رقم الآیۃ: 228)*
وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤۡمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ بُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنۡ اَرَادُوۡۤا اِصۡلَاحًا ؕ وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ O
*سنن الدار قطنی: (رقم الحدیث: 134، 45/4، ط: دار المعرفة)*
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ الْخُلْعَ تَطْلِيقَةً بَائِنَةً.
*رد المحتار: (441/3، ط: دار الفکر)*
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول"
*الھدایہ: (431/2، ط: سعید)*
و ابتداء العدۃ فی الطلاق عقیب الطلاق، و فی الوفاۃ عقیب الوفاۃ، فان لم تعلم بالطلاق او الوفاۃ حتی مضت مدۃ العدۃ فقد انقضت عدتہا، لان سبب وجوب العدۃ الطلاق او الوفاۃ، فیعتبر ابتداءھا من وقت وجود السبب۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی