سوال:
حضرت! میرے سسر کا تین ہفتے پہلے انتقال ہوا ہے، میری ساس اور میں ایک ہی عمارت میں رہتے ہیں۔ کیا میری ساس عدّت کے ایّام میں ہمارے ساتھ رہ سکتی ہیں؟ کیونکہ وہ اکیلی نہیں رہ سکتیں، ان کے دو بیٹے ہیں جو الگ اور دور رہتے ہیں۔ ہم انہی کی عمارت میں رہتے ہیں تو کیا وہ عدّت کے دنوں میں ہمارے ساتھ رہ سکتی ہیں یا ہمارے گھر آنا جانا کر سکتی ہیں؟ عمارت ایک ہی ہے، میں چھٹی منزل پر رہتی ہوں اور وہ ساتویں منزل پر رہتی ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ اگر عمارت کی سیڑھیاں گھر کے اندر ہی سے ہوں تو پھر وہ پوری عمارت ایک ہی گھر کے حکم میں شمار ہوگی اور ایسی صورت میں آپ کی ساس کے لیے آپ کے گھر آنا جانا جائز ہے، لیکن اگر عمارت کی سیڑھیاں گھر کے باہر سے ہوں اور آنے جانے کا راستہ علیحدہ ہو تو پھر عدت کے دوران آپ کی ساس کا اپنے شوہر کے گھر سے بلا عذر نکلنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر تنہائی کی وجہ سے سخت پریشانی یا خوف کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں بھی آپ کی ساس اپنے شوہر کے گھر سے نکل کر آپ کے گھر آکر عدت گزار سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع: (205/3، ط: دارالکتب العلمیة)
وأما المتوفى عنها زوجها فلا تخرج ليلا ولا بأس بأن تخرج نهارا في حوائجها؛ لأنها تحتاج إلى الخروج بالنهار لاكتساب ما تنفقه؛ لأنه لا نفقة لها من الزوج المتوفى بل نفقتها عليها فتحتاج إلى الخروج لتحصيل النفقة، ولا تخرج بالليل لعدم الحاجة إلى الخروج بالليل۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی