resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مطلّقہ عورت کا اپنی والدہ کے گھر عدت گزارنا

(39802-No)

سوال: میں اس وقت اپنی امی کے گھر موجود ہوں اور مجھے طلاق کا پہلا نوٹس موصول ہوا ہے۔ براہِ کرم عدّت کے بارے میں شرعی فتویٰ بیان فرما دیں۔
میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور میرا بھائی بیرونِ ملک ہے۔ میرے بچے میرے ساتھ ہیں۔ کیا میں بچوں کی حفاظت اور ضروری کاموں کے سلسلے میں گھر سے باہر جا سکتی ہوں؟

جواب:
واضح رہے کہ مطلّقہ عورت پر لازم ہے کہ وہ طلاق سے پہلے جس گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی، اسی گھر میں عدت گزارے۔ بلا ضرورتِ شدیدہ اس گھر کو چھوڑ کر والدہ یا کسی اور رشتہ دار کے گھر عدت گزارنا شرعاً درست نہیں ہے، البتہ اگر کوئی واقعی مجبوری یا شدید ضرورت پیش آجائے تو ایسی صورت میں کسی دوسرے مقام، مثلاً: والدہ کے گھر عدت گزارنے کی گنجائش ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اصولاً آپ پر شوہر کے گھر ہی میں عدت گزارنا لازم ہے اور اس دوران آپ کے نان و نفقہ اور دیگر ضروری اخراجات کی ذمّہ داری بھی شوہر ہی پر ہوگی۔
تاہم اگر شوہر آپ کو اس گھر میں رکھنے پر آمادہ نہ ہو تو آپ اپنی والدہ کے گھر میں عدت گزار سکتی ہیں۔ اس صورت میں اپنی ناگزیر ضروریات، جیسے علاج معالجہ یا معاشی ضرورت (جب کفالت کا کوئی اور ذریعہ موجود نہ ہو) کے لیے بقدرِ ضرورت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

*الدر المختار مع رد المحتار: (3/ 536، ط: سعید)*
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه
(قوله: إلا أن تخرج) الأولى الإتيان بضمير التثنية فيه وفيما بعده ط، وشمل إخراج الزوج ظلما، أو صاحب المنزل لعدم قدرتها على الكراء، أو الوارث إذا كان نصيبها من البيت لا يكفيها بحر

*الفتاوى الهندية: (1/ 557، ط: دار الفکر)*
المعتدة عن الطلاق ‌تستحق ‌النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)