resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

(230-No)

سوال: آفس سے تقریباً ایک کلومیٹر دور صحیح العقیدہ لوگوں کی مسجد ہے اور اس سے پہلے بدعتی حضرات کی مسجد ہے تو ہم نماز کہاں پڑھیں؟

جواب: واضح رہے کہ نماز پڑھنے کے لئے ایسے امام کانتخاب کرنا چاہیے، جو صحیح العقیدہ ہو، اگر کبھی ایسی نوبت آجائے کہ کسی ایسے امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنی پڑے، جس کے عقائد کفر وشرک کی حد تک تو نہ پہنچے ہوں، لیکن وہ مختلف بدعات کا مرتکب ہو تو جماعت ترک کرنے سے بہتر ہے کہ اس امام کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے، تاکہ جماعت کے ثواب سے محرومی نہ ہو، البتہ مستقل طور پر ایسے امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، کسی صحیح العقیدہ نیک امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لہذا اگر دوسری مسجد بہت دور ہو اور وہاں پنج وقتہ حاضری دینا مشکل ہو تو مجبوراً تنہا پڑھنے سے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا بہتر ہے، کیونکہ جماعت کی بہت اہمیت ہے۔
واضح رہے کہ معیار کلومیٹر نہیں ہے، بلکہ دوسری مسجد تک پہنچنے کی دشواری اور مشقت ہے، لیکن اگر اس کےعقائد کافرانہ اور مشرکانہ ہوں تو پھر ایسے شخص کے پیچھے نماز کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (559/1، ط: دار الفکر)
(ويكره)۔۔(امامة عبد)۔۔۔(ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها)۔۔۔(وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها)۔۔(فلا يصح الاقتداء به أصلا)

الدر المختار مع رد المحتار: (562/1، ط: دار الفکر)
وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة۔۔۔۔الخ
(قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

bidati imam ky peechy namaz parhny ka hukum/bidati imam / imaam ke / key peeche namaz / namaaz parhne ka hukum, Ruling on praying behind a heretical / bidati bidaati Imam

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)