عنوان: نسوار کے کاروبار کا حکم(102327-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب میرا یہ سوال ہے کہ کیا نسوار کا کاروبار اور اس کی کمائی حلال ہے یا حرام ؟

جواب: نسوار کی خرید و فروخت فی نفسہ جائز ہے، لیکن مضرصحت ہونے کی بناء پر اس کا کاروبار اختیار نہ کرنا بہتر ہے، البتہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام نہیں کہا جاسکتا ، تاہم اگر نسوار کے بیچنے پر حکومت کی طرف سے پابندی ہو تو اس کو بیچنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مباح امور میں حکومت کے قانون کی پاسداری کرنا ضروری ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی مسند احمد:

عن النبي -صلي الله عليه وسلم - قال: "السمع والطاعة على المرء فيما أحب أو كره، إلا أن يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة".

(ج: 4، ص: 350، ط: دار الحدیث)

وفی موسوعۃ الفقہ الاسلامی:

فكل ما خلق الله الأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد دليل يحرمه. وكل ما صنع الإنسان من الآلات والأجهزة فالأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد فيه دليل يحرمه.

(ج: 2، ص: 293، ط: بیت الافکار الدولیۃ)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

28 Nov 2020
11 Rabi Al-Akhar 1442

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com