عنوان: مطلقہ عورت کی عدت کے خرچ کا حکم(102364-No)

سوال: حضرت، معلوم یہ کرنا تھا کہ طلاق كے بعد عدت کا خرچہ دینا لازم ہے؟اور اگر لازم ہے تو اِس کی کوئی رقم طے ہوتی ہے یا شوہر اپنی حیثیت كے مطابق عدت کا خرچہ دے سکتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ طلاق کے بعد اگر بیوی شوہر کے گھر میں عدت گزارے، تو دوران عدت خرچہ شوہر کے ذمہ اس کی استطاعت کے بقدر لازم ہے۔
اور اگر بیوی شوہر کے گھر عدت نہیں گزارتی، بلکہ اپنے میکے چلی جاتی ہے اور شوہر کے بلانے کے باوجود بغیر کسی شرعی عذذر کے نہیں آتی، تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ اس کا خرچہ لازم نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی التنزیل العزیز:

"أَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ".

(سورة الطلاق: ٦)

وقال الله تعالى:
"لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ وَمَنْ قُدِرَ".

(سورة الطلاق: ٧)

وفي الفتاوى الھندیة:

"ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح".

(ج: ۱، ص: ۵۵۸)

وفي الفتاوی التاتارخانية:

"أجمع العلماء علیٰ أن المطلقۃ طلاقاً رجعیاً تستحق النفقۃ والسکنی أیضاً مادامت العدۃ قائمۃ سواء کانت حاملاً أو حائلاً۔ وأما المبتوتۃ فلہا النفقۃ والسکنیٰ أیضاً وہذا مذہبنا".
؎
(ج: ٥، ص: ۳۹۹)

لما في الفتاوى الھندیة:

"والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية".

(ج: ۱، ص: ۵۵۸)

وفیہ أیضا:

"وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج لأن الاحتباس قائم".

(ج: ١، ص: ٥٤٥)

وفی الدرالمختار مع رد المحتار:

"( لا ) نفقة لأحد عشر مرتدة ومقبلۃ ابنه ۔۔۔ و ( خارجة من بيته بغير حق ) وهي الناشزة حتى تعود ۔۔۔ وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت".

(ج: ۳، ص: ۵۷۶،۵۷۵)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 973

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.