سوال:
محلے میں ایک بغیر نمبر پلیٹ گاڑی 18 سال سے کم عمر نوجوان چلا رہے تھے، ان نوجوانوں نے کم سن مہمان بچوں کے قریب شرارت کے طور پر گاڑی ایسے چلائی کہ وہ سمجھے یہ کوئی مشکوک یا اغوا کرنے والے لوگ ہیں۔ ایک بچہ گھر پہنچ گیا دوسرا بھاگتا رہا، انہوں نے ایک بچے کی گرنے والی گھڑی اٹھا کر پھر گاڑی بھگائی، مگر انداز ایسا تھا کہ بچہ خوف سے بھاگتا رہا، اس دوران گھر والے پہنچ گئے اور عوام بھی جمع ہوگئی، لوگوں نے نوجوانوں کو مارا اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس صورت میں کیا ان کا نقصان ادا کرنا بچوں کے گھر والوں کے ذمے لازم ہے؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق کم عمر بچے کا بنا لائسنس تیز رفتاری سے گاڑی چلانا قانوناً وشرعاً جرم ہے۔مذکورہ واقعے میں اگر صورتحال ایسی تھی کہ لوگوں کو اس کی تیز رفتاری سے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور لوگوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر یا جان جانے کے خوف کے پیش نظر اپنے دفاع کے لیے گاڑی کو مارا ہو تو پھر اس صورت میں ان پر ضمان نہیں آئے گا اور اگر ایسا خطرہ نہیں تھا، پھر بھی لوگوں نے گاڑی کو نقصان پہنچایا تو اس صورت میں ان پر نقصان کا ضمان آئے گا۔
چونکہ دارالافتاء کے سامنے دوسرے فریق کا موقف نہیں ہے، لہذا اس بارے میں دار الافتاء کے لیے کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ آپس میں مصالحت کر لی جائے اور ہر دو فریق آپس میں نقصان تقسیم کرلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (50/6، ط: دار الفکر)
الراكب ضامن لما وطئت الدابة، وما أصابت بيدها أو رجلها أو رأسها أو كدمت أو خبطت، وكذا إذا صدمت كذا في الهداية ولا يضمن ما نفحت برجلها أو ضربت بذنبها، والجواب فيما إذا كان قائدا لها نظير الجواب فيما إذا كان راكبا عليها
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی