سوال:
اگر کسی شخص کے سونے یا چاندی کے مصنوعی دانت لگے ہوں تو اس کے لیے غسل کے بارے میں کیا حکم ہے، کیا اس کو دانت نکال کر غسل کرنا ضروری ہے یا ان مصنوعی دانتوں کے ساتھ غسل کر سکتا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ اگر مصنوعی دانت اس طرح لگائے گئے ہوں کہ ان کو الگ کرنا دشوار ہو تو وہ اصل دانتوں کے حکم میں ہیں، ان کو نکالے بغیر غسل کر سکتے ہیں، لیکن اگر دانت اس طرح لگائے گئے ہوں کہ وہ بآسانی نکال کر دوبارہ لگائے جاسکتے ہوں تو غسل کرتے ہوئے ان کو نکال کر منہ میں پانی ڈالنا لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (مطلب فی ابحاث الغسل، 154/1)
(قولہ:بخلاف نحو عجین) ای: کعلک، وشمع و قشر سمک وخبز ممضوع متلبد "جوھرة" ۔۔۔۔۔ نعم ذکر الخلاف فی شرح المنیہ فی العجین واستظھر المنع؛ لان فیہ لزوجة وصلابة تمنع نفوذ الماء۔(قولہ: وھو الاصح) صرح بہ فی شرح المنیة، وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی