سوال:
اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ مجھے کشف کے ذریعہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ فلاں شخص کے پاس جاؤ یا فلاں بات کہو تو ایسا دعوی کرنے والے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نبی کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان شخص کو بھی کشف یا الہام ہوسکتا ہے، لہذا کشف کا دعوی کرنے والےشخص کی بات کو شریعت کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا، اگر صحیح ہو تو قبول کیا جائے گا، ورنہ رد کردیا جائے گا، البتہ چونکہ کشف سے حاصل ہونے والا علم ظنّی ہوتا ہے، لہذا شرعاً یہ حجت نہیں ہے اور نہ اس پر عمل کرنا لازم ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ اس سے شریعت کا کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ بعض مرتبہ اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کی تسلی کے لیے یا ان پر انعام کرنے کے لیے کبھی کبھار ان پر کسی چیز کی حقیقت کو کھول دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
حاشیة شرح العقائد: (ص: 22)
فالالہام لیس بحجة عند الجمہور الا عند المتصوفة بخلاف الالہام الصادر من الرسول علیہ الصلاۃ و السلام فانہ حجة عند الکل۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی