عنوان: کشف یا الہام ہوسکتا ہے، لیکن وہ حجت نہیں(102551-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ مجھے کشف کے ذریعہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ فلاں شخص کے پاس جاؤ، یا فلاں بات کہو، تو ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ غیر نبی کو کشف یا الہام ہوسکتا ہے، مگر وہ حجت نہیں ہے، اگر دعوی کرنے والا شخص سنت نبوی اور احکام شریعت کا پابند ہو، تو اس کی بات کو شریعت کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا، اگر صحیح ہو، تو قبول کیا جائے گا، ورنہ رد کردیا جائے گا، لیکن اگر وہ شخص سنت نبوی اور احکام شریعت کا پابند نہ ہو، تو اسکے کشف و الہام کا دعوی شیطانی مکر ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی حاشیة شرح العقائد:

فالالہام لیس بحجة عند الجمہور الا عند المتصوفة بخلاف الالہام الصادر من الرسول علیہ الصلاۃ و السلام فانہ حجة عند الکل۔

(ص: ٢٢، حاشیہ نمبر: ۴)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 224

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com