عنوان: کرایے پر دیے ہوئے گھر پر زکوة کا حکم (102708-No)

سوال: جناب مفتی صاحب ! السلام علکیم، ہم نے ایک کمرہ رہنے کے لیے خریدا اور اس میں رہائش پذیر تھے، پھر ایک اور مکان رہائش کے لیے خریدا اور اس دوسرے مکان میں شفٹ ہوگئے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس پہلے والے مکان پر زکوة کا کیا حکم ہے؟ اور اس کو ہم نے کرایہ پر دیا ہے تو اس کرایہ پر زکوة کا حکم کیا ہے؟ نیز پچھلے چھ سال سے ہم نے اس مکان کی زکوة نہیں ادا کی ہے۔

جواب: ۔ واضح رہے کہ رہائشی مکان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ہے،بلکہ ہر اس پلاٹ و مکان کی مالیت پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے، جس کے خریدتے وقت حتمی طور پر، صرف یہ نیت کی گئی ہو کہ اس کو آئندہ فروخت کر دیا جائے گا، اس کے علاوہ کوئی اور نیت نہ ہو ۔
 2۔ اسی طرح ہر وہ مکان جو کرایہ پر دیا ھوا ھو، اس پر بھی زکوۃ لازم نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی التاتارخانیۃ: 
" ثم نیۃ التجارۃ لا تعمل ما لم ینضم إلیہ الفعل بالبیع أو الشراء أو السوم فیما یسام ".
( الفتاویٰ التاتارخانیۃ : ۳؍۱۶۶ )

وفی الدر المختار:
" وشرط افتراض أدائہا حولان الحول وہو فی ملکہ أو نیۃ التجارۃ فی العروض".
(الدر المختار : ۳؍۱۸۶)

وفی الاشباہ والنظائر : 
" وتشترط نیۃ التجارۃ في العروض، ولابد أن تکون مقارنۃ للتجارۃ".
(الاشباہ والنظائر : ۳۸)
قال العلامۃعبد الحی رحمہ اللہ:
" لو اشتریٰ الرجل داراً او عبداً للتجارۃ ثم آجرہ یخرج من ان یکون للتجارۃ ولو اشتریٰ قدوراً من الصفر یمسکہا ویواجرہا لا یجب فیہا الزکاۃ کما لا یجب فی بیوت الغلۃ کذا فی فتاویٰ قاضی خان۔ (مجموعۃ الفتاویٰ: ۱/ ۳۶۳ کتاب الزکاۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

زکوة و صدقات میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

06 Dec 2019
جمعہ 06 دسمبر - 8 ربيع الثانی 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com