عنوان: ہیئر ٹرانسپلانٹ Hair transplant کروانے کا شرعی حکم(100271-No)

سوال: السلام وعلیکم، مفتی صاحب ! آج کل جو سَر کے گنجے میں نیو بال لگواتے ہیں، یعنی کہ ہیر ٹرانسپلانٹ کرواتے ہیں، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: (1)بالوں کی پیوند کاری Hair Transplantation کے عقلاً دو طریقے ممکن ہیں۔

(¡)کسی دوسری جگہ سے بال کو جڑ سمیت نکال کر کهال میں گاڑھ (Implant )دیا جائے، اگر اپنے ہی جسم کے بال ہوں تو یہ جائز ہے اور اگر کسی دوسرے شخص کے بال حاصل کیے جائیں تو یہ جائز نہیں۔

(¡¡ )کسی دوسری جگہ سے بال کهال سمیت اتار کر سر کی کهال کو کهرچ کر اس کے ساتھ لگادی جائے، اگر اپنے ہی جسم کی کهال ہو تو جائز ہے اور اگر دوسرے کے جسم کی کهال ہو تو جائز نہیں۔

(2 ) Hair by Hair process

اس طریقے میں مصنوعی جهلی یا جلد میں انسانی بال قدرتی انداز میں پیوست کردیے جاتے ہیں، اس وجہ سے بالوں کا کوئی بهی اسٹائل بنایا جاسکتا ہے، اس مصنوعی جهلی یاجلد میں مسام بهی ہوتے ہیں، جن کے راستے سے پسینے اور پانی کا اخراج بهی ہوتا ہے، سر پر اگر کچھ قدرتی بال لگے ہوں تو ان کو ایک خاص مطلوبہ حد تک کتر دیا جاتا ہے، پهر اس جهلی کوایک خاص محلول (Liquid )کے ذریعہ سر کے اصل بالوں کے ساتھ ان کی جڑوں تک جوڑ دیا جاتا ہے، یہ Liquid واٹر پروف ہوتا ہے، یعنی پانی کو جذب نہیں کرتا اور اصل بالوں تک پانی کو پہنچنے سے روکتا ہے، جهلی کے بعد بال دو مہینے میں آسانی سے نکل جاتے ہیں، جب بال نیچے سے بڑھ جاتے ہیں تو جهلی اتار کر سر پر موجودہ بالوں کو مطلوبہ حد تک کتر کر جهلی کو دوبارہ چپکا دیا جاتا ہے۔
یہ طریقہ مختلف وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے۔
(1 )کسی دوسری انسان کے بالوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
(2 )انسانی بالوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
( 3 ) جهلی کے نیچے بالوں تک (Liquid)کی وجہ سے پانی نہیں پہنچتا، اس لیے فرض غسل ادا نہیں ہوتا۔
(4 )اگر پورے سر پر جهلی لگی ہو تو وضو میں سر کے مسح کا فرض ادا نہیں ہوتا۔
(5 )اگر چوتھائی سر کی مقدار کے برابر سر پر جهلی نہ لگی ہو تو اگرچہ اس پر مسح کا فرض ادا ہوجائےگا، لیکن مسح کی سنت کہ پورے سر کا مسح کیا جائے، اس سے مستقل محرومی رہے گی۔

وگ (Wig)کی شرعی حیثیت

موجودہ دور میں وگ یعنی بناوٹی بالوں کا استعمال بہت عام ہے اور جدید سائنس نے اس میں کافی ترقی کی ہےاور نئے نئے انداز سے بال لگوائے جانے کے طریقے ایجاد ہوگئے ہیں، شرعی اعتبار سے ہم ان طریقوں کو دو صورتوں میں بیان کر سکتے ہیں۔

(1)انسان اور خنزیر کے بالوں کی وگ
حدیث شریف کی رو سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ انسانی بالوں کی وگ لگوانا جائز نہیں، اسی طرح خنزیر کے بالوں کی وگ لگوانا بهی جائز نہیں، خواہ وہ وگ مشین کے ذریعہ اس طرح لگوائی جائے کہ جسم سے الگ نہ ہو سکے یا عارضی طور پر لگوائی جائے کہ جب چاہیں اسے پہن لیں اور جب چاہیں اسے اتار لیں، ان میں سے کسی صورت میں بھی انسان یا خنزیر کی وگ لگوانا جائز نہیں۔

(2 )جانوروں یا مصنوعی بالوں کی وگ
انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ کسی جانور یا مصنوعی بالوں کی وگ لگانا اور لگوانا شرعاً جائز ہے، خواہ مستقل لگوائی جائے یا عارضی طور پر۔

مصنوعی بال کی صورت میں وضو اور غسل کا حکم:

تاہم وضو اور غسل کے بارے میں اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ بال سر کے ساتھ مستقل ملے ہوئے ہوں اس طور پر کہ سر سے الگ کرنا مشکل ہو تو وضو کے دوران ان پر مسح کرنا جائز ہے اور فرض غسل بهی اسے اتارے بغیر درست ہوگا اور اگر وہ بال مستقل پیوست نہ ہوں، بلکہ عارضی طور پر لگے ہوں تو ایسی صورت میں ان کے اوپر مسح جائز نہیں ہوگا، بلکہ سر پر مسح کرنے کے لیے ان کو ہٹانا ضروری ہوگا اور غسل کی صورت میں بهی اگر ان بالوں کے ہوتے ہوئے جلد تک پانی نہ پہنچے تو ان کو ہٹانا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی صحیح البخاری:

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة»

(ج: 7، ص: 165، ط: دار طوق النجاۃ)

وفی مرقاۃ المفاتیح:

وعن ابن عمر أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " «لعن الله الواصلة، والمستوصلة، والواشمة، والمستوشمة» ". متفق عليه.

(وعن ابن عمر، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " لعن الله الواصلة) : أي التي توصل شعرها بشعر آخر زورا وهي أعم من أن تفعل بنفسها أو تأمر غيرها بأن يفعله، (والمستوصلة) : أي التي تطلب هذا الفعل من غيرها، وتأمر من يفعل بها ذلك، وهي تعم الرجل والمرأة، فالتاء إما باعتبار النفس ; أو لأن الأكثر أن المرأة هي الآمرة والراضية. قال النووي: الأحاديث صريحة في تحريم الوصل مطلقا، وهو الظاهر المختار، وقد فصله أصحابنا فقالوا: إن وصلت بشعر آدمي فهو حرام بلا خلاف ; لأنه يحرم الانتفاع بشعر الآدمي وسائر أجزائه لكرامته، وأما الشعر الطاهر من غير الآدمي، فإن لم يكن لها زوح ولا سيد فهو حرام أيضا ; وإن كان فثلاثة أوجه، أصحها: إن فعلته بإذن الزوج والسيد جاز، وقال مالك والطبري والأكثرون: على أن الوصل ممنوع بكل شيء شعر أو صوف أو خرق أو غيرها، واحتجوا بالأحاديث وقال الليث: النهي مختص بالشعر فلا بأس بوصله بصوف وغيره، وقال بعضهم: يجوز بجميع ذلك وهو مروي عن عائشة، لكن الصحيح عنها كقول الجمهور.

(ج: 7، ص: 2819، ط: دار الفکر)

وفی بدائع الصنائع:

ويكره للمرأة أن تصل شعر غيرها من بني آدم بشعرها لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لعن الله الواصلة والمستوصلة» ولأن الآدمي بجميع أجزائه مكرم والانتفاع بالجزء المنفصل منه إهانة له ولهذا كره بيعه ولا بأس بذلك من شعر البهيمة وصوفها لأنه انتفاع بطريق التزين بما يحتمل ذلك ولهذا احتمل الاستعمال في سائر وجوه الانتفاع فكذا في التزين.

(ج: 5، ص: 125، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وفی الشامیۃ:

والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن اهـ

(ج: 1، ص: 154، ط: دار الفکر)

وفی حاشیۃ الطحطاوی:

"ولو انضمت الأصابع" بحيث لا يصل الماء بنفسه إلى ما بينها "أو طال الظفر فغطى الأنملة" ومنع وصول الماء إلى ما تحته "أو كان فيه" يعني المحل المفروض غسله "ما" أي شيء "يمنع الماء" أن يصل إلى الجسد "كعجين" وشمع ورمص بخارج العين بتغميضها "وجب" أي افترض "غسل ما تحته" بعد إزالته المانع

(ج: 1، ص: 63، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وفی الھندیۃ:

وإن كان على ظاهر بدنه جلد سمك أو خبز ممضوغ قد جف فاغتسل ولم يصل الماء إلى ما تحته لا يجوز۔۔۔ولو كان شعر المرأة منقوضا يجب إيصال الماء إلى أثنائه ويجب على الرجل إيصال الماء إلى أثناء اللحية كما يجب إلى أصولها وإلى أثناء شعره وإن كان ضفيرا. كذا في محيط السرخسي.
ولو ألزقت المرأة رأسها بطيب بحيث لا يصل الماء إلى أصول الشعر وجب عليها إزالته ليصل الماء إلى أصوله

(ج: 1، ص: 13، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي.
قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - ولا ينتفع من الخنزير بجلده ولا غيره إلا الشعر للأساكفة وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره الانتفاع أيضا بالشعر وقول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أظهر كذا في المحيط.

(ج: 5، ص: 354، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 968
hair transplant karwane/karwanay ka shari hukum/hukm, hair transplant karwane/karwanay ka shari hukum/hukm

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com