عنوان: مدینہ منورہ سے بغیر احرام کے مکہ مکرمہ جانا(102768-No)

سوال: حضرت سوال یہ ہے کہ ہمارے عمرہ گروپ کے ایک ساتھی کی طبعیت بہت خراب ہوگئی اورہم پہلے مدینہ آئے ہیں۔ کیا وہ ساتھی بغیر احرام کے ہمارے ساتھ مکہ جا سکتا ہے اور بعد میں مسجد عائشہ سے عمرہ کرلے ؟ یا پھر دم دینا پڑے گا؟

جواب: مدینہ منورہ یا کسی بھی جگہ کے رہنے والے کے لیے میقات سے حج یا عمرے کا احرام باندھے بغیر گزرنا جائز نہیں ہے اور اس پر حدودِ حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی وجہ سے دم یعنی بکری وغیرہ کی قربانی اور ایک عمرہ یا حج لازم ہوگا، البتہ اگر وہ شخص واپس اپنے یا دوسرے میقات یا کسی بھی میقات کے محاذات میں جا کر احرام باندھ لے تو اس سے دم ساقط ہوجائے گا، لہذا صورت مسئولہ میں وہ بیمار شخص مدینہ منورہ میں کچھ دن صحت یاب ہونے تک انتظار کرے، لیکن اگر کسی شرعی اور قانونی مجبوری کی وجہ سے انتظار نہیں کرسکتا ہے، پھر بغیر احرام کے حدود حرم میں داخل ہو اور قریبی میقات مسجدِ عائشہ سے عمرہ کا احرام باندھ لے، تو دم ساقط ہوجائے گا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لما فی غنیة الناسک:

اٰفاقی مسلم مکلف أراد دخول مکۃ أو الحرم ولو لتجارۃ أو سیاحۃ وجاوز اٰخر مواقیتہٖ غیر محرم ثم أحرم أو لم یحرم اثم ولزمہ دم وعلیہ العود إلی میقاتہ الذی جاوزہ او الی غیرہ اقرب او ابعد والی میقاتہ الذی جاوزہ افضل ، وعن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی ان کان الذی یرجع محاذیا لمیقاتہ الذی جاوزہ او ابعد منہ سقط الدم و الا فلا، فإن لم یعد ولا عذر لہ أثم اخریٰ لترکہٖ العود الواجب، فإن کان لہ عذر کخوف الطریق، أو الانقطاع عن الرفقۃ، أو ضیق الوقت أو مرض شاق ونحو ذٰلک فاحرم من موضعہ ولم یعد إلیہ لم یأثم بترک العود وعلیہ الاثم والدم بالاتفاق۔

(فصل فی مجاوزة الاٰفاقی وقتہ، ص: 60، ط: ادارة القرآن والعلوم الاسلامیة، کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 349
madina munawwara se / sey baghair ehraam ke / key makkah mukarrama jana

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.