سوال:
مفتی صاحب! ایک پیچیدہ مسئلے پر بحث چل رہی تھی تو میں نے غصّے میں یہ کہہ دیا کہ تو کیا کروں، کیا اللہ کا گریبان پکڑ کر پوچھوں کہ ایسا کیوں ہوا؟”
میں نے اُن تمام لوگوں کے سامنے جن کے سامنے یہ الفاظ کہے تھے، اسی وقت اللہ سے معافی مانگ لی اور توبہ کر لی تھی۔
آپ بتائیں کہ اِن الفاظ کے لیے اور کس طرح اللہ سے توبہ کی جائے؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ الفاظ میں اگرچہ دور کی تاویل ممکن ہے کہ میں کیا کروں اللہ سے تو نہیں پوچھ سکتا، لیکن اس کے باوجود یہ الفاظ اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شان میں سخت بے ادبی اور توہین پر مشتمل ہیں، اس لیے مذکورہ شخص پر لازم ہے کہ وہ ان الفاظ سے توبہ واستغفار کرے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور احتیاطاً اس کے بعد تجدیدِ ایمان کرے اور اگر شادی شدہ ہو تو تجدیدِ نکاح بھی کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهندية: (538/3، ط: رشيدية جديد)
رجلان بينهما خصومة ... ولو قال: شو وباخداي جنك كن (الترجمة: اذهب و تحارب مع الله) قال بعضهم: يكون كفرا واليه مال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل و قال الشيخ الإمام: و الأحوط تجديد النكاح كذا في قاضى خان.
رد المحتار: (230/4، ط: دار الفکر)
نعم سیذکر الشارح ان ما یکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح، وما فیه خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبة وتجدید النکاح اھ وظاھرہ انه امر احتیاط
الهندية: (258/2، ط: دار الفكر)
(ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله يجوز أن يفعل الله تعالى فعلا لا حكمة فيه ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر كذا في البحر الرائق.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی