سوال:
مفتی صاحب! ایک مؤلف نے اپنی کتاب چھاپنے کیلیے ایک پبلشر کو دی، پبلشر سے کتاب کی چھپائی کے دوران چند کتب کے کچھ صفحات آگے پیچھے ہو گئے،اس صورت میں پبلشر پر کچھ ضمان لازم آئے گا کہ نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ پبلشر سے کتاب چھپوانا اجارہ (اجرت کے بدلے کام کروانا) کا معاملہ ہے، جس میں پبلشر کی حیثیت "اجیرِ مشترک" (مختلف لوگوں کے لیے اجرت کے بدلے کام کرنے والے) کی ہے، اور اجیر مشترک سے اگر کوئی غلطی کوتاہی ہوجائے تو اس کا ذمّہ دار وہ خود ہوتا ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں کتاب کی چھپائی میں پبلشر کے پاس صفحات آگے پیچھے ہونے کی جو غلطی سامنے آئی، اس کا ذمّہ دار وہ خود ہوگا، اس غلطی کو درست کرنے پر جو اخراجات آئیں گے، وہ پبلشر خود برداشت کرے گا۔
اگر غلطی کو درست کرائے بغیر اسی حالت میں اس سے کتاب لینا چاہیں تو ایسی صورت میں اجارہ پر کام کرانے والے (مستاجر) پر صرف "اجرت مثل" واجب ہوگی، یعنی غلطی کے بعد اس جیسی کتاب کی چھپائی کی مارکیٹ میں جتنی اجرت لی جاتی ہے، اتنی ہی اجرت اسے دی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل
الفتاوى الهندية (4/ 495):
وسئل عمن استأجر وراقا ليكتب له مصحفا وينقطه ويعشره بكذا ويعجمه فأخطأ في بعض النقط والعواشر قال أبو جعفر لو فعل ذلك في كل ورقة فالدافع بالخيار إن شاء أخذ وأعطاه أجر مثله ولا يتجاوز به المسمى وإن شاء رد عليه وأخذ ما أعطاه وإن وافقه في البعض دون البعض أعطاه حصة ما وافق من المسمى وما خالف من المثل كذا في الحاوي.
المحيط البرهاني (8/ 392):
استأجر وراقاً ليكتب له جميع القرآن، وينقطه، ويعجمه، ويعشره وأعطاه الكاغد والحبر، وشرط له بدلاً معلوماً، فأصاب الوراق البعض وأخطأ في البعض، فإن فعل ذلك في كل ورقة فله الخيار، إن شاء أخذه وأعطاه أجر مثل عمله لا يجاوز ما سمى، وإن شاء ترك عليه وأخذ منه قيمة ما أعطاه، وإن كان ذلك في بعض المصحف دون البعض، يعطيه حصة ما أصاب من المسمى، ويعطيه مثل عمله؛ لأنه وافق في البعض، وخالف في البعض، وقيل في النكال إذا غلط في جميع حدوده أو في بعضه، فإن لم يصلحه فلا أجر له، وإن أصلحه فللآجر الخيار، وإن رضي به فللكاتب أجر مثله.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص ،کراچی