resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اللہ تعالی کا ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنا

(3026-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے، کیا اس روایت کا ثبوت حدیث کی کسی مستند کتاب میں ملتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اللہ تعالی کا ایک ماں کی رحم دلی سے زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہونے کا ذکر حدیث شریف میں ضرور ملتا ہے، تاہم "ستّر کے عدد کی تحدید" کسی روایت میں نہیں ملتی ہے، لہذا ستر کے عدد کی تحدید کے ساتھ روایت کو نقل کرنا درست نہیں۔
ذیل میں ایسی دو روایات کو نقل کیا جاتا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ ربّ العزّت اپنے بندوں سے ماں کی رحمدلی سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
(1)حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ" رسول اللہﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے، قیدیوں میں ایک خاتون موجود تھی، جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا، اور وہ دوڑ رہی تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا، اس نے جھپٹ کر اپنے پیٹ سے لگالیا اور اس کو دودھ پلانے لگی۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا: "کیا تم خیال کرسکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟" ہم نے عرض کیا کہ بالکل نہیں۔ جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گفتگو کو سن کر نبی کریم ﷺنے ارشادفرمایا: "اللہ تعالی اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہوسکتی ہے"۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر:5653)
(2)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالی نے اپنی رحمت کے سو حصے کیے ہیں، چنانچہ ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لیے، اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا۔ مخلوق جو ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہ اسی ایک حصے سے ہے، یہاں تک کہ گھوڑا جو اپنے بچے کو تکلیف پہنچنے کے ڈر سے اس کے اوپر سے جو اپنا کھر اٹھائے، وہ بھی اسی ایک حصے سے ہے"۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر:5654)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل :

صحيح البخاري،لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي،(کتاب الأدب، باب: رحمة الولد وتقبيله ومعانقته.2235/5،رقم الحدیث 5653، المحقق: د. مصطفى ديب البغا، الناشر: (دار ابن كثير، دار اليمامة) – دمشق):
عن عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: قدم على النبي ﷺ سبي، فإذا امرأة من السبي قد تحلب ثديها تسقي، إذا وجدت صبيا في السبي أخذته، فألصقته ببطنها وأرضعته، فقال لنا النبي ﷺ: "أترون هذه ‌طارحة ولدها في النار". قلنا: لا، وهي تقدر على أن لا تطرحه، فقال: "لله أرحم بعباده من هذه بولدها".

صحيح البخاري،لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي،(کتاب الأدب، باب: جعل الله الرحمة في مائة جزء، 2236/5، رقم الحدیث: 5654، المحقق: د. مصطفى ديب البغا، الناشر: (دار ابن كثير، دار اليمامة) – دمشق):
عن سعيد بن المسيب: أن أبا هريرة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "‌جعل ‌الله ‌الرحمة في مائة جزء، فأمسك عنده تسعة وتسعين جزءا، وأنزل في الأرض جزءا واحدا، فمن ذلك الجزء: يتراحم الخلق، حتى ترفع الفرس حافرها عن ولدها، خشية أن تصيبه"۔

الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري، لشمس الدين الكرماني (ت 786ه)، (‌‌باب قتل الولد خشية أن ياكل معه، 165/31، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت-لبنان):
"فإن قلت: رحمة الله غير متناهية، لا مائة ولا مائتان؟ قلت: ‌الرحمة عبارة عن القدرة المتعلقة بإيصال الخير والقدرة صفة واحدة، والتعلق غير متناه، فحصره على مائة على سبيل التمثيل؛ تسهيلا للفهم، وتعليلا لما عندنا، وتكثيرا لما عنده".

المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، لأبي زكريا محيي الدين النووي (ت 676ه)، (کتاب التوبة، باب سعة رحمة الله تعالى وأنها تغلب غضبه، 68/17، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت):
قوله ﷺ : "جعل الله الرحمة مائة جزء "۔۔۔إلى آخره: هذه الأحاديث من أحاديث الرجاء والبشارة للمسلمين۔ قال العلماء: لأنه إذا حصل للإنسان من رحمة واحدة في هذه الدار، المبنية على الأكدار الإسلام والقرآن والصلاة والرحمة في قلبه وغير ذلك، مما أنعم الله تعالى به، فكيف الظن بمائة رحمة في الدار الآخرة؟، وهي دار القرار ودار الجزاء۔

والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص کراچی

Kia Allah Taala apnay bandon say sattar maaon say ziadah mohabbat karta hay, Taa'la apne, bandon se, maon, se, ziada, muhabbat, Does Allah loves his servants more than seventy mothers? 70 times more than mothers, Allah loves humans like 70 times more than mothers, Is it true that Allah loves us 70 times more than our mothers

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees