سوال:
بیوی کا اپنے گھر کی باتیں اپنی بہن بھائیوں کو بتانا اور پھر ان کا بھی آگے ذکر کر کے خاوند کو برا سمجھنا، اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ ہر وہ بات جو راز کے طور پر کہی جائے یا کہنے والے کا اندازِ گفتگو بتائے کہ یہ راز کی بات ہے تو ایسی باتیں بغیر اجازت کے آگے نقل کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح میاں بیوی کی پردے کی باتیں شوہر یا بیوی کے لیے لوگوں کے سامنے بیان کرنا ممنوع اور ناجائز ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں عورت کا گھر کی راز کی باتیں میکے میں کرنا شرعاً ناجائز عمل ہے، جس سے اجتناب کرنا لازم ہے، حدیث میں اس کی ممانعت وارد ہے۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے (یعنی اسے اب آگے پھیلانا خیانت شمار ہوگا)"۔ (سنن ابو داود، حدیث نمبر: 4868)
اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: "مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں (یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیے)"۔ (سنن ابو داود، حدیث نمبر: 4869)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داؤد:(رقم الحدیث: 4868، ط: البشري)
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة , حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا ابن ابي ذئب، عن عبد الرحمن بن عطاء، عن عبد الملك بن جابر بن عتيك،عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا حدث الرجل بالحديث ثم التفت فهي امانة".
سنن أبي داؤد:(رقم الحدیث: 4869، ط: البشري)
حدثنا احمد بن صالح، قال: قرات على عبد الله بن نافع، قال: اخبرني ابن ابي ذئب، عن ابن اخي جابر بن عبد الله، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" المجالس بالامانة إلا ثلاثة مجالس: سفك دم حرام، او فرج حرام، او اقتطاع مال بغير حق".
التعليق المحمود على سنن أبي داؤد: (967/2، ط: البشري)
قوله: إذا حدث الرجل بالحديث إلخ: قال المظھری: إذا حدث أحد عندك حديثاً ثم غاب صار حديثه أمانة عندك، ولا يجوز إضاعتها. قال الطيبي: والظاهر أن ((التفت)) ههنا عبارة عن التفات خاطره إلى التكلم، فالتفت يميناً وشمالاً احتياطاً، كذا في ((مرقاة الصعود)). قوله: التفت إلخ: أي انصرف وذهب، أو التفت إلى الجوانب خوفاً من أن لا يسمع أحد حديثه، فهذا دليل على أنه يكره سماع هذا الحديث الذي تكلم معه،فبهذا صار أمانة، كذا قال بعض الأفاضل، والله أعلم.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی